بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن کاایک رکن بھی مستعفی ہوا تو ۔۔۔،ایس ایم ظفرکا سیاسی جماعتوں کو انتباہ

datetime 31  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)الیکشن کمیشن کے ارکان نے مو قف اختیار کیا ہے کہ ان کاکام پالیسی بناکر دینا ہے جس پر عملدرآمد چیف الیکشن کمشنر کرتے ہیں اس لئے ان کا مستعفی ہونے کا کوئی پروگرام نہیں جبکہ معروف قانون دان ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کارروائی یا استعفے کے علاوہ ان ارکان کو ہٹانے کا کوئی طریقہ نہیں،ایک رکن بھی مستعفی ہوا تو ضمنی اور بلدیاتی الیکشن نہیں ہو سکیں گے۔الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ ان ارکان نے چیف الیکشن کمشنر پر واضح کیا ہے کہ چونکہ ان کا ایک آئینی عہدہ ہے اس لیے وہ اس عہدے کی معیاد ختم ہونے سے پہلے کسی طور پر بھی مستعفی نہیں ہوں گے۔دو روز قبل پاکستان کے مقامی میڈیا میں یہ خبریں شائع ہوئی تھیں کہ الیکشن کمیشن کے چار ارکان میں سے تین ارکان نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں صوبہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور صوبہ سندھ کے صوبائی الیکشن کمشنر شامل ہیں، جبکہ بلوچستان کے الیکشن کمشنر رخصت پر چلے گئے ہیں۔دو روز سے یہ خبریں نہ صرف پرنٹ میڈیا پر شائع ہوئیں بلکہ اس پر متعدد ناک شوز بھی ہوئے لیکن اس دوران الیکشن کمیشن کی طرف سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا تھا۔الیکشن کمیشن کے اہلکار کے مطابق ان ارکان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ا ±ن کا کام پالیسی بنا کر دینا ہے جبکہ اس پر حکمت عملی اختیار کرنا چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داری ہے۔الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان کو سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں 2011 میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کے درمیان مشاورت سے پانچ سال کے لیے صوبائی الیکشن کمشنرز کے طور پر تعینات کیا گیا تھا اور ان کے عہدے کی میعاد اگلے سال مئی میں ختم ہو رہی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کے لیے چار اکتوبر تک کی مہلت دی ہے اور دھمکی دی ہے کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ان کی جماعت الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنا دے گی۔سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ان ارکان نے مستعفی ہونے کے بارے میں عمران خان کے موقف کی تائید کی ہے۔اس ضمن میں ماہر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشن کے ارکان کو ا ±ن کے عہدے سے ہٹانے کے دو ہی طریقے ہیں، ایک یہ کہ وہ خود مستعفی ہو جائیں اور دوسرا یہ کہ ا ±ن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جائے، جس طرح اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے خلاف دائر کیا جاتا ہے۔ ا ±نھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے کسی ایک رکن کے مستعفی ہونے سے کمیشن مکمل نہیں رہے گا جس کی وجہ سے ملک میں ضمنی انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکے گا۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں صوبہ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر رکھا ہے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ 122 اور 154 میں ضمنی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے جس کے مطابق ان حلقوں میں پولنگ 11 اکتوبر کو ہونا ہے، اس صورتحال میں اگر کوئی رکن مستعفی ہوتا ہے تو الیکشن رک سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…