منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 2فیصد کمی

datetime 29  اگست‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی کارکردگی کافی بہتر جار ہی تھی ،مگر چند دنوں کے دوران ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے،جس کے بعدڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر2فیصد سے زائدکم ہوئی ہے۔25 اگست کو اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر 104 روپے 80 پر فروخت ہواجبکہ اسی روز اس کی قیمت 17 ماہ کی بلند ترین سطح یعنی 105 روپے 10 پیسے تک پہنچ گئی۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت آنے کے بعد یعنی 07 جون 2013 میں ایک ڈالر 98 روپے 50 پیسے کا فروخت ہورہا تھا۔2دسمبر 2013 تک یہ 108روپے 50 پیسے تک پہنچا۔ڈالر کی اس بڑھتی قدر کو روکنے کیلئے وزیرخزانہ نے وارننگ جاری کی، جس کے بعد 31دسمبر 2013 تک ڈالر 105روپے 29 میں فروخت ہوتارہا۔سال 2014 میں ڈالر 98 روپے کی سطح تک پہنچا اور سال کے اختتام 31 دسمبر 2014 میں یہ 100روپے 46 پیسے کی سطح پر ٹریڈ ہوا۔2015 کے آغازسے اگست کےشروع تک روپیہ مضبوط رہااور ایک ڈالر 101روپے میں فروخت کیلئے دستیاب تھا مگر 24 اگست سے ڈالر کو ایسے پر لگے کے یہ 17 ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔معاشی تجزیہ کار اس اضافے کی کئی وجوہات بتاتے ہیں۔ جس میں کچھ اسے دانستہ حکومتی اقدام قرار دے رہے ہیں تا کہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوسکے اور بھارت، بنگلہ دیش اور چین کی کرنسی کی قدر میں کمی کےمنفی اثرات سے بھی بچ سکے۔ کچھ کا خیال ہے کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی وجہ سے تاجر اور عوام ڈالر میں سرمایہ کاری کررہے ہیںاور حاجیوں کی جانب سے ڈالرزخریدنے سے اس کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…