بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

چوہدری شجاعت نے ایم کیو ایم سے معافی کا مطالبہ کردیا

datetime 28  اگست‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم ایک بڑی جماعت ہے لیکن اسے اپنے آپ کو عسکری ونگ اور جرائم پیشہ عناصر سے الگ کرتے ہوئے بلوچ علیحدگی پسندوں کی طرح قوم سے معافی مانگنی چاہیے ۔ کراچی سمیت ملک میں حالات کی تمام بہتری کا کریڈٹ فوج کو جاتا ہے ۔ جلد مسلم لیگی دھڑوں کو متحد کریں گے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما سید غوث علی شاہ نے کہا ہے کہ ہمارا پہلا اور آخری مقصد لیگی گروپوں کا اتحاد ہے اور بہت جلد قوم کو خوش خبری سنائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سید غوث علی شاہ کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ق) سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ اور دیگر بھی موجود تھے ۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم ایک بڑی جماعت ہے لیکن اسے اپنے آپ کو عسکری ونگ اور جرائم پیشہ عناصر سے الگ کرنا ہو گا ۔ اس کے علاوہ وہ قوم سے معافی مانگیں بالکل ایسے ہی جیسے بلوچ علیحدگی پسند معافی مانگ کر قومی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ متحدہ مسلم لیگ کبھی مردہ گھوڑا نہیں رہا ہے ۔ ہمیشہ زندہ رہا ہے ۔ جب ہی تو لوگ مسلم لیگ کے نام پر سیاست کرتے ہیں ۔ مسلم لیگ میں جان ہے اور جلد ایک مضبوط اتحاد بنائیں گے ۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ہر سیاست دان کے پیچھے کوئی نہ کوئی ہوتا ہے ۔ متحدہ مسلم لیگ کے قیام کے معاملات سے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ وہ اپنا کام کر رہے ہیں اور ہم اپنا کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈکٹیٹر اور فوج کے سربراہ کو الگ نگاہ سے دیکھنا ہو گا ۔ یہاں سول ڈکٹیٹر بھی رہے ہیں ۔ صرف فوج ہی کے بارے میں ڈکٹیٹر شپ کا تاثر غلط ہے ۔ (ن) لیگ کے متحدہ مسلم لیگ میں شمولیت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم (ق) ( ل) (ن) پر یقین نہیں رکھتے ۔ صرف متحدہ مسلم لیگ ہمارا مقصد ہے ۔ ملک اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے ، جس سے نکالنے کے لےے لیگی اتحاد اور اپوزیشن کا گرینڈ الائنس وقت کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہر شخص آج امن پر اطمینان کا اظہار کر رہا ہے ، اس کا کریڈٹ فوج پر جاتا ہے ۔ یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہنا چاہئے ۔ 14 اگست پر لوگوں نے بھرپور خوشی کا اظہار کیا ۔ سید غوث علی شاہ نے کہا کہ لیگی اتحاد کے قیام کے لےے کوششیں جاری ہیں اور جلد قوم کو خوش خبری ملے گی ۔ آج کی ملاقات کا مقصد بھی یہی تھا ۔ اس وقت ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے ۔ تاہم ہماری فوج اپنی مثبت کردار کی وجہ سے صورت حال کو کنٹرول کر رہی ہے ۔ سندھ کے حالات ویسے تو بہت خراب ہے لیکن حالیہ فوجی آپریشن نے حالات کو کچھ بہتر بنایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب پولیٹیکل پارٹیاں ڈلیور نہیں کرتیں تو کوئی نہ کوئی سامنے آتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…