بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

بھارتی ہائی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی

datetime 28  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں اور 6 شہریوں کی شہادت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں روکتے ہوئے 2003ءکے سمجھوتے کی پابندی کرے۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری کی طرف سے بھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھوان کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور حکومت پاکستان کی جانب سے ورکنگ باﺅنڈری پر ہڑپال اور چپراڑ سیکٹر میں بھارتی فوج کی سیز فائر کی تازہ خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور ایک بچے سمیت 6 شہری شہید اور 22 خواتین سمیت 47 شہری زخمی ہوگئے جن میں سے دس کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں کو سی ایم ایچ سیالکوٹ میں طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔ حکومت پاکستان نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعاءکی ہے۔ بھارت کی تازہ فائرنگ کے نتیجے میں تین گاﺅں سب سے زیادہ متاثر ہوئے جن میں کندن پور، باجرہ گڑھی اور ٹھٹھی شامل ہیں، ان علاقوں کے متعدد گھر بھی تباہ ہوگئے۔ بھارت کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ گزشتہ رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب اس وقت شروع ہوا جب پاکستانی فوجیوں نے ورکنگ باﺅنڈری کے قریب طے شدہ طریقہ کار کے برعکس بھارت کی جانب سے زمین کی کھدائی پر ان کی توجہ دلائی۔ ابتدائی طور پر پاکستانی فوجیوں کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کیا گیا تاہم جب بھارتی فوجیوں نے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی تو پاکستان کی جانب سے بھی اس کا بھرپور جواب دیا گیا فائرنگ کا سلسلہ جمعہ کو دن گیارہ بجے کے قریب ختم ہوا ۔ دفتر خارجہ طلبی کے موقع پر بھارتی ہائی کمشنر کو بتایا گیا کہ پاکستانی حکومت سویلین باشندوں کو نشانہ بنانے پر بھارتی اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے اور بھارت کی جانب سے ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری پر مسلسل معاندانہ اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے اس موقع پر بھارتی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ فوری طور پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں بند کرے اور 2003ءمیں دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر سے متعلق طے پانیوالے سمجھوتے کی پابندی کرے تاکہ ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری پر امن بحال ہوسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…