جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

ایگزیکٹ کے بعد ایک اور بڑا ڈگری سکینڈل ،انتباہ جاری

datetime 27  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)ایگزیکٹ کے بعد ایک اور بڑا ڈگری سکینڈل ،انتباہ جاری،قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے آڈیٹر جنرل کو کامسیٹس یونیورسٹی کا خصوصی آڈٹ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی نے بغیر اجاز ت برطانوی اداروں سے الحاق کر رکھا ہے اور وہ طلبہ سے ڈگری کےلئے دو ہزار پاﺅنڈوصول کررہی ہے . یہ ایگزیکٹ کے بعد ایک اور بڑا ڈگری سکینڈل بن سکتا ہے . کمیٹی نے ہاﺅس بلڈنگ فنانس کارپوریشن سے نادہندگان کی تفصیلات طلب کرلیا جبکہ کمیٹی کے چیئر مین سید خورشید شاہ نے کہاہے کہ ہر چیز میں ہمیں کمرشلزم کو مدنظر نہیں رکھنا چاہئے، ہمیں ویلفیئر کی طرف جانا چاہئے، غریب لوگوں کو گھر بنانے کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پاکستان بیت المال کی طرز پر قرضے فراہم کئے جائیں ۔ جمعرات کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین سید خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا۔ جس میں کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر درشن، صاحبزادہ نذیر سلطان، میاں عبدالمنان، شاہدہ اختر علی، شیخ رشید احمد، جنید انوار چوہدری، رانا افضال حسین، سید نوید قمر، شیخ روحیل اصغر سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے اجلاس شروع ہوا تو چیئرمین پی سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ کامسیٹس یونیورسٹی نے کسی پیشگی منظوری کے بغیر برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کیا ہے۔ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ برطانیہ کی یونیورسٹی کی ڈگری دینے کے لئے کامسیٹس طلبہ سے دو ہزار پاﺅنڈ وصول کر رہی ہے۔ انہوں نے آڈیٹر جنرل کو ہدایت کی کہ اس یونیورسٹی کا اسپیشل آڈٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کامسیٹس کو بتانا چاہئے کہ انہوں نے اس کی اجازت ایچ ای سی یا پاکستان انجینئرنگ کونسل میں سے کس سے لی ہے۔ فنانس ڈویژن کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیتے ہوئے سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ کرنسی نوٹ دیرپا نہیں ہوتے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے پی اے سی کو بتایا گیا کہ پانچ روپے کا نوٹ چھاپنے پر 2روپے 37پیسے خرچہ آتا ہے۔ 100روپے کا نوٹ ساڑھے تین روپے میں پڑتا ہے۔ 5ہزار کے نوٹ کے حوالے سے پی اے سی کو بتایا گیا کہ ہمارے ملک میں کرنسی کے ذریعے لین دین بہت زیادہ ہے، اگر اسے ختم کر دیا جائے تو لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ حکام نے پی اے سی کو بتایا کہ پانچ ہزار کے نوٹ کے حوالے سے ارکان کی تجاویز پر غور کیا جا سکتا ہے۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ پاکستان منٹ کارپوریشن ملک کا اثاثہ ہے، اس کو ترقی دینا ہم سب کا فرض ہے۔ اس ادارے کو کمرشل کام کرنے کی اجازت دی جائے تو یہ اپنے اخراجات خود پورے کر سکتا ہے۔ سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے کہا کہ ہم نے پاکستان منٹ کارپوریشن کی ادارہ جاتی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جو جلد حکومت کو منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ ایک اور آڈٹ اعتراض کے جائزہ کے دوران شیخ رشید احمد نے کہا کہ اگر وزارتوں کا اسٹاف لاکھوں روپے تواضع پر خرچ کرے گا تو ملک کا کیا بنے گا۔ وزارت خزانہ کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ یہ کسی افسر کا ذاتی خاطر تواضع کا خرچہ نہیں بلکہ یہ اجلاسوں کے دوران کیا جاتا ہے۔ پی اے سی نے ہدایت کی کہ تواضع اور خاطر مدارت کے اخراجات میں جس حد تک ہو بچت کی جائے۔ ایک آڈٹ اعتراض کے جائزہ کے دوران پی اے سی کو بتایا گیا کہ ایچ بی ایف سی کے ایم ڈی کی ماہانہ تنخواہ 9 لاکھ ہے۔ سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے کہا کہ گورنر سٹیٹ بینک کی ماہانہ تنخواہ 12 لاکھ ہے۔ دیگر مراعات کی تفصیلات پی اے سی میں پیش کر دیں گے۔اس موقع پر چیئر مین کمیٹی سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ہاﺅس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے نادہندگان کی تفصیلات پی اے سی میں پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ارب 70 کروڑ کا قرضہ اتنے بڑے ادارے کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اتنی رقم میں تو 10 بڑے گھر بھی نہیں بن سکتے۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ لوگوں کے ذمہ ادارے کے تین ارب 30 کروڑ واجب الادا ہیں۔ سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ہر چیز میں ہمیں کمرشلزم کو مدنظر نہیں رکھنا چاہئے، ہمیں ویلفیئر کی طرف جانا چاہئے، غریب لوگوں کو گھر بنانے کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پاکستان بیت المال کی طرز پر قرضے فراہم کئے جائیں۔ ایم ڈی ایچ بی ایف سی نے پی اے سی کو بتایا کہ 34 ہزار کھاتہ داروں سے ہم نے چار ارب 20 کروڑ روپے وصول کرنے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…