جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قدرتی آتش بازی کاسالانہ نظارہ کیسا ہوتا ہے،کلک کر کے جانئے

datetime 15  دسمبر‬‮  2014 |

نیو یارک۔۔۔۔ستاروں کے نظاروں کے شوقین افراد نے اتوار کی رات شہابیوں کی سالانہ بارش کا دیدار کیا ہے۔ماہر فلکیات کا کہنا ہے کہ سالانہ جوزائیہ (جیمنائی) شہابیوں کی بارش اتوار کی رات یہ اپنے عروج پر رہی۔اپنے عروج پر جوزائیہ ہر گھنٹے 50 سے 100 شہاب ثاقب چھوڑتے ہیں۔ ان سے بیک وقت مختلف قسم کی روشنی نکل سکتی ہے اور کبھی کبھی یہ جلدی جلدی یا بیک وقت دو تین کی تعداد میں پھوٹ پڑتے ہیں۔ماہر فلکیات کا کہنا ہے کہ اسے دیکھنے کا بہترین وقت صبح دو بجے ہے جب نقطہ نور بالکل سر پر اور جوزائیہ ستاروں کی کہکشاں کے پاس ہوتا ہے اور یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ شہابیے وہیں سے پھوٹتے ہیں۔ماہر فلکیات کے مطابق اس کا نقطہ عروج دن میں گیارہ بجے تھا لیکن دن کی روشنی کے سبب اسے دیکھا نہیں جا سکا تاہم یہ رات بھر جاری رہا اور اسے رات میں 10 بجے کے بعد کہیں بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ان کی رفتار 22 میل یعنی تقریبا 35 کلو میٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔سوسائٹی آف پاپولر ایسٹرونومی کے صدر روبن سکیجیل نے کہا کہ ’جھرمٹ آسمان میں بہت اونچائی پر ہوگا اور چاند وہاں سے گذر چکا ہوگا۔ ہر منٹ ایک شہابیہ اچھی شرح ہوگی اور یہ ممکن بھی ہے۔ آپ ایک ساتھ دو تین شہابیوں کے چھوٹنے کے منظر سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ستاروں کا نظارہ کرنے والے اس طرح کے مناظر کے لیے نہ جانے کتنی راتیں اختر شماری میں گذارتے ہیں۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شہابیوں کی بارش اس وقت ہوتی ہے جب زمین دم دار تاروں کی دھول کے راستے سے گذرتی ہے اور بعض چھوٹے عناصر جو ریت کے ذرے کے برابر ہوتے ہیں وہ زمین کے ماحول میں آ کر جل اٹھتے ہیں۔جوزائیہ اس معاملے میں مختلف ہیں کہ وہ مکمل طور سے برفیلے دم دار تارے سے جھڑے ہوئے نہیں ہوتے لیکن وہ دم دار تارے اور شہابیے کی ایک انجمن ہوتے ہیں۔شہابیے زمین سے 24 میل یعنی تقریبا ساڑھے 38 کلو میٹر کے فاصلے پر فروزاں ہو جاتے ہیں۔جوزائیہ شہابیے کی بارش کی پہلی بار سنہ 1860 کی دہائی میں نشاندہی کی گئی اور وقت کے ساتھ اس میں تیزی آتی گئی۔سنہ 1920 کی دہائی کے دوران اس کی رفتار 20 شہابیے فی گھنٹے ہو گئی جبکہ کہ سنہ 1930 کی دہائی میں یہ 50 شہابیے فی گھنٹے تک پہنچ گئی اور پھر سنہ 1970 کی دہائی تک یہ 80 شہابیہ فی گھنٹے تک پہنچ گئے۔ان کی رفتار 22 میل یعنی تقریبا 35 کلو میٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے اور یہ زمین سے 24 میل یعنی تقریبا ساڑھے 38 کلو میٹر کے فاصلے پر فروزاں ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…