ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

تحریک انصاف کا سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے وفاقی حکومت کیساتھ مل کر کام کرنے کا اعلان

datetime 29  اگست‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماء و سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ حکومت بروقت اقدامات کرتی تو اس طرح کی تباہی نہیں ہوتی، تونسہ شریف میں عثمان بزدار نے بند نہ باندھا ہوتا تو نقصانات بہت زیادہ ہوتے،

سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے وفاقی حکومت کیساتھ ملکر کام کریں گے ۔میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے رہنماء پی ٹی آئی فواد چودھری نے موجودہ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ نے ڈیمز نہیں بنائے، بروقت اقدامات نہیں کئے، سندھ کی قیادت تو اپنی زمینوں کو بچانے کے لیے پانی آبادی کی جانب موڑ رہی ہے، یہاں ڈیمز بنانے اور درخت اگانے کی بات عمران خان کے علاوہ کسی نے نہیں کی، حکومت تو عمران خان کو سیاست سے باہر کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ہم وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے، ٹیلی تھون پورے ملک کیلئے ہو رہے ہیں، پوری دنیا کے لوگ اس فنڈ ریزنگ میں شرکت کریں گے، سات بجے فون لائنز اوپن ہوں گی، تمام لوگ بڑھ چڑھ کر پیسے دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کی کسی بھی لوکل تنظیم کو چندہ مہم شروع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بروقت اقدامات کرتی تو اس طرح کی تباہی نہیں ہوتی، تونسہ شریف میں عثمان بزدار نے بند نہ باندھا ہوتا تو نقصانات بہت ہوتے ۔انہوں نے وزیر خزانہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مفتاح اسماعیل واضح کریں انٹیلی جنس بیورو نے کس قانون کے تحت فون ٹیپنگ کی؟ ،فون ٹیپنگ کرنا پاکستان میں ایک رواج بن گیا ہے،

ہمارے اعلی ترین عہدیداروں کے فون کی ٹیپنگ ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مفتاح اسماعیل پر اپوزیشن سے زیادہ (ن) لیگ تنقید کررہی ہے، عابد شیر علی اور دیگررہنمائوں کے بیانات سب کے سامنے ہیں، اپنی پارٹی کی تنقید کے بعد مفتاح اسماعیل کو مستعفی ہوجانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ شہباز گل کیس میں نیوز اینکر کو شامل کردیا گیا ہے، سیاسی جماعتوں کے عوام سے تعلقات بہتر رہنے چاہئیں،

باقی تعلقات اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں، آج فیکٹریاں بند ہورہی ہیں، صوبے سیلاب سے تباہ ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران عمران خان نے آئی ایم ایف سربراہ سے گفتگو کی اور ریلیف لیا، وفاقی حکومت کو صوبوں کے خدشات کو دیکھنا ہوگا، تحریک انصاف 22 کروڑ عوام کے حقوق کی بات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے بعد سر پلس کا معاملہ صوبوں سے طے کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…