جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے حکم دیا توایاز صادق کا کیا بنے گا؟ جانئے معروف قانون دان کیا کہتے ہیں

datetime 24  اگست‬‮  2015 |

لاہور( نیوزڈیسک) سینئر سیاستدان و معروف قانون دان سینیٹر ایس ایم ظفرنے کہا ہے کہ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے پر اگر سپریم کورٹ محدود حکم امتناعی دیتاہے تو سردار ایاز صادق رکن قومی اسمبلی رہیں گے اوراگرمکمل حکم امتناعی دیا گیا تو وہ اسپیکر کے عہدے پر بھی رہ سکتے ہیں،فیصلے میں سردارایاز صادق پر کسی طرح کی دھاندلی یا بے ضابطگی کا الزام عائد نہیں کیا گیا اس لحاظ سے ان کےلئے اخلاقیات کا پہلو نہیں بنتا البتہ الیکشن کمیشن کو نا اہلی اورکوتاہی برتنے والے افسران کے خلاف ضرورتادیبی کارروائی کرنی چاہیے ،عمران خان رکن اسمبلی رہتے ہوئے بھی این اے 122سے الیکشن لڑ سکتے ہیں اوراگر وہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو انہیں ایک نشست چھوڑنے کا فیصلہ کرنا ہوگا ۔ این اے 122 پر الیکشن ٹربیونل کے فیصلے پر اپنی قانونی رائے دیتے ہوئے ایس ایم ظفرنے کہا کہ بلا شک وشبہ دو قسم کی دھاندلی ہوتی ہے جس میں ایک ایڈ منسٹریشن کی غلطیوں سے الیکشن درست نہ ہو اہو یا دوسرا امیدوار یا اس کی پارٹی ملوث ہو کر نتائج کو خراب کرے پہلے میں کسی بھی شخص کےلئے اخلاقیات کے پہلو کم ہوتے ہیںکیونکہ اس میں الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاںنبھانے میںناکام ہواہے اور اسے امیدوار کی خرابی نہیں کہا جا سکتا ۔ انہوںنے سردارایا ز صادق کی طرف سے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر وہاں سے حکم امتناعی آ جاتاہے ان کے لئے نیشنل اسمبلی میںبیٹھنے پرکوئی اعتراض نہیں ہوسکتا اور جہاں تک ان کے اسپیکر کا تعلق ہے شاید یہاں دوبارہ انتخاب کی نوبت نہ آئے لیکن اگر سپریم کورٹ محدود کی بجائے الیکشن ٹربیونل کی ججمنٹ پر مکمل حکم امتناعی دیتی ہے تو قومی اسمبلی کی نشست کے ساتھ ان کی اسپیکر شپ بھی بر قرار رہے گی اور جہاں تک اخلاقیات کا سوال ہے تو فیصلے کے مطابق ان پر کسی طرح کی دھاندلی یا بے ضابطگی عائد نہیں کی گئی اور جو شخص کاقصور وار ہی نہ ہو اس کے لئے اخلاقیات کا پہلو کم بنتا ہے لیکن الیکشن کمیشن کو الیکشن خراب کرنے والے افسران کے خلاف ضرور تادیبی کارروائی کرنی چاہیے ۔انہوںنے کہا کہ میں واضح کرناچاہتاہوں کہ سردار ایاز صادق نے صرف استعفوںکے معاملے میں تسائل سے کام برتنے کے علاوہ مجموعی طور پر اچھا ماحول قائم کیا ۔ استعفوں کے معاملے میں ہو سکتا ہے کہ انکی جماعت یا حکومت کا دباﺅ ہو لیکن انہیں یہ دباﺅ نہیں لینا چاہیے تھا۔انہوں نے عمران خان کے اس نشست سے الیکشن لڑنے کےلئے مستعفی ہونے کے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ عمران خان پہلے مستعفی ہوں اور بعدمیں اس نشست سے الیکشن لڑیں البتہ اگر وہ کامیاب ہو جاتے ہیں توانہیں ایک نشست چھوڑنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ جہاں تک عمران خان کے الیکشن لڑنے کا سوال ہے تو یہ ان کی پارٹی کا معاملہ ہے وہ پارٹی میںدیکھیں گے لیکن فی الوقت پی ٹی آئی کے پاس ایسا کوئی امیدوار نہیں جو(ن) لیگ کی دسترس میں موجود اس سیٹ کو بآسانی جیت سکتے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…