بدھ‬‮ ، 21 اکتوبر‬‮ 2026 

عمرا ن حکومت میں ایس جی ڈی فنڈز میں اربوں روپے کی کرپشن سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ

datetime 7  جولائی  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں چیئر مین نور عالم خان اور پی ٹی آئی سینیٹر شبلی فراز میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق سینیٹر حلال کی جانب سے گذشتہ دور حکومت میں کرپشن کا معاملہ کمیٹی میں اٹھایا گیا

پی ٹی آئی کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اس معاملے پر بحث سے پہلے ہمیں پڑھنے کے لیے دیا جائے جس پر چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ رولز کے مطابق میں پبلک پٹیشن کو ڈسکشن میں شامل کر سکتا ہوں۔ اس پر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ سینیٹر حلال پبلک نہیں وہ ایک سینیٹر ہیں۔ اس پر نور عالم خان چیئرمین پی اے سی کا کہنا تھا کہ سینیٹر حلال عوام کے نمائندے ہیں اور وہ عوام کا مسئلہ کمیٹی میں اٹھا سکتے ہیں جس پر مسلم لیگ ن کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ سینیٹر حلال کو معاملہ کمیٹی میں بیان کرنے کا موقع دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ چیئر مین کمیٹی اپنے اختیار استعمال کر کے کسی کو بھی بولنے کا موقع دے سکتا ہے۔ جس کے بعد روحیل اصغر اورشبلی فراز کیدرمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس پر شبلی فراز نے سوال کیا کے چیئرمین کون ہے، اس کے جواب میں نور عالم خان نے کہاکہ میں چیئرمین ہؤں مجھ سے بات کریں۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے دوران اس وقت بھی بدمزگی کا ماحول بنا جب کمیٹی رکن احمد حسین نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی، اور افسوس یہ ہے کہ اگر اس کرپشن کو پکڑنے یا روکنے کی بات ہو تو اس میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔اس پر پی ٹی آئی کے سینیٹر شبلی فراز نے احتجاج کیا تو چیئرمین پی اے سی نور عالم نے ان سے کہا کہ ’شبلی فرازآپ باربارماحول خراب کر رہے یہ سڑک نہیں جس کے جواب میں شبلی فراز نے کہا کہ

میں نے رولز کا پوچھا ہے اس میں کیا غلط ہے۔ نور عالم خان نے ان سے کہا کہ آپ ماحول خراب نہ کریں مجھے پھر اپنا اختیار استعمال کرنا پڑیگا۔اس کے جواب میں شبلی فراز نے کہا کہ آپ اختیار استعمال کریں اور مجھے نکال دیں۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گذشتہ دور حکومت میں ایس جی ڈی فنڈز میں اربوں روپے کی کرپشن سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔کمیٹی نے ایک ماہ میں رپورٹ مکمل کر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ پی اے سی کا کہنا تھا کہ نیب ،ایف آئی اے اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان اس معاملے کی تحقیقات کریں گے۔اور جو جو ادارہ ملوث ہے اسے کٹہرے میں لایا جائے۔



کالم



زندگی کا ذائقہ


یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…