جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

دوبارہ رابطہ کرنے پر ایم کیو ایم نے استعفوں کے معاملے پر پھر مشاورت کا عندیہ دیدیا

datetime 23  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(اے این این) پارلیمنٹ سے استعفوں کے معاملے پر بات چیت میں حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے رکن اسمبلی اور جمیعت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دوبارہ رابطہ کرنے پر ایم کیو ایم نے اس معاملے پر پھر مشاورت کرنے کا عندیہ دے دیا ۔ اس سلسلے میں جے یو آئی کے ترجمان جان اچکزئی نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن نے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار سے رابطہ کیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر اسحاق ڈار نے ایم کیو ایم سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد مولانا نے ایم کیو ایم کی قیادت کے ساتھ بات کی۔ جماعت کے ترجمان نے کہا کہ اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمن کو یقین دلایا ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے اور وہ اپنی مصالحتی کوششیں جاری رکھیں۔ جان اچکزئی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے ایم کیو ایم کی قیادت کو یقین دلایا ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہے اور ان کے جائز مطالبات کو بھی تسلیم کیا جائے گا اس لیے مذاکرات کے نئے دور کو جلد از جلد شروع کیا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے جمعے کی شب اسمبلیوں میں واپسی کے لیے حکومت سے مزید مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے اراکین کو قومی اسمبلی، سینیٹ اور سندھ اسمبلی سے مستعفی سمجھا جائے۔جمعے کی شب ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کردہ تحریری بیان میں ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے گذشتہ روز دورہ کراچی میں دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا اور ایم کیو ایم سے مذاکرات اور ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی بات نہیں کی۔ تاہم جمیعت علما اسلام ف کے ترجمان جان اچکزئی نے متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے مذاکرات کو ختم کرنے کی اصل وجہ بتانے سے گریز کی اور کہا کہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی امید ابھی باقی ہے لہذا اس قسم کی باتوں سے وہ امید بھی ختم ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…