پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

شہباز شریف نے اتحادیوں اور ناراض اراکین کو منانے کیلئے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ، خزانے کے منہ کھول دئیے

datetime 30  جون‬‮  2022 |

اسلام آباد (آن لائن)وزیر اعظم شہباز شریف نے اتحادیوں اور ناراض اراکین کو منانے کیلئے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے ۔جمعرات کے روز وزیراعظم سے بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر خالد مگسی اور آزاد رکن اسلم بھوتانی نے ملاقات کی ہے،باپ اور آزاد رکن نے وعدے پورے نہ کرنے پر وزیر اعظم سے شکایات کے انبار لگا دیئے ،وزیر اعظم نے تمام مسائل کے حل کی یقین

دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں اور ساتھ ہ رہیں ،انشاء تمام مسائل بروقت حل اور اس کی خود نگرانی کروں گا،آئندہ شکایات کا موقع نہیں ملے گا،وزیر اعظم نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو ناراض رکن اسلم بھوتانی کو مطلوبہ فنڈز فوری فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ،بعد ازاں وزیر اعظم سے رکن قومی اسمبلی عبید اللہ شادی خیل اور امانت شادی خیل سے بھی ملاقات کی اور ان کے مسائل کے حل کیلئے تمام فنڈز فوری دینے کے احکامات جاری کئے ،دونوں رہنمائوں نے وزیر اعظم کے معاشی اقدامات کی بھر پور حمایت کی ۔دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے وفاقی حکومتی اتحاد سے علیحدگی پر غور شروع کر دیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایمل ولی خان کی زیرِ صدارت اے این پی کی مرکزی قیادت کا اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں حکومتی اتحاد کے لیے کیے گئے وعدوں اور ان پر عمل درآمد سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کی گورنر شپ لینے سے دستبردار ہو گئی ہے اور اے این پی رہنما ئوں نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کی تجویز دے دی ہے تاہم اس حوالے سے ایمل ولی خان نے حتمی فیصلوں کے لیے مرکزی قیادت کا اجلاس عیدالاضحیٰ کے بعد طلب کر لیا ہے ۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اے این پی رہنمائوں نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اختیار پارٹی سربراہ کو دے دیا ہے۔اے این پی قیادت کو شکایت ہے کہ حکومت کی جانب سے کیا گیا کوئی وعدہ پورا نہیں ہو سکا جبکہ اے این پی قیادت کو یہ شکایت بھی ہے کہ کسی بھی حکومتی فیصلے پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…