جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

امریکا میں اب سیلفی کے ذریعے شاپنگ اور رقوم کی ادائیگی کی جائے گی

datetime 21  اگست‬‮  2015 |

کیلیفورنیا(نیوز ڈیسک) دنیا بھر کے موبائل فونز سے روزانہ لاکھوں کروڑوں سیلفیاں لی جاتی ہیں لیکن اب ان سیلفیوں کا ایک بہتر استعمال سامنے آگیا ہے کیونکہ اب انہیں بطور شناخت استعمال کرکے شاپنگ اور دیگر رقوم ادائیگیوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ایک امریکی کمپنی نے اسمارٹ فون سیلفی کے ذریعے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کو تجرباتی طور پر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے شاپنگ کی ادائیگی اور رقوم کی منتقلی کی جاسکتی ہے اس سروس کو 25 25سیلفی پے 24 24 کا نام دیا گیا ہے جس میں چہرہ شناخت کرنے والی ( فیس ریکگنیشن) ٹیکنالوجی کے ذریعے شاپنگ کرنا ممکن ہوگا۔ اس نظام کے تحت خریداری کے بعد سیلفی پے ان کے چہرے کی صاف تصویر کھینچے گی جسے بطور شناخت استعمال کیا جائے گا اور اسے اسٹور کے ڈیٹابیس میں موجود تصاویر سے ملایا جائے گا اور اس طرح اسٹور یا شاپنگ سینٹر سے باہر نکلتے ہوئے سیلفی لینا ایک عام بات ہوجائے گی۔کیلیفورنیا میں فرسٹ ٹیک فیڈرل کریڈٹ یونین نے پہلی مرتبہ سیلفی کی آزمائشی تیاری شروع کردی ہے جس میں رقم کی ادائیگی کے لیے فنگرپرنٹس بھی استعمال کی جائے گی۔ اس کی آزمائش ستمبر سے اکتوبر تک جاری رہے گی جس میں 200 افراد جعلی اکاو¿نٹس بناکر سلیفی کو آزمائیں گے جس میں تنہا شخص کی سیلفی استعمال کی جائے گی نا کہ اس کے دوستوں کے ساتھ گنجلک سیلفی کا استعمال کیا جائے گا۔فرسٹ ٹیک کمپنی کے مالک گریگ مچل کہتے ہیں کہ ہمارے صارفین رقم کی سیکیورٹی چاہتے ہیں اور وہ بھی ایک انوکھے انداز میں اور اسی لیے ہم نے سیلفی کے ذریعے رقم کی تصدیق کا نظام بنایا ہے کیونکہ 83 فیصد صارفین نئی ٹیکنالوجی چاہتے ہیں اسی طرح اے بی این ایمر نے بھی 750 کریڈٹ کارڈز کی سیلفی کے ذریعے تصدیق کا ایک تجربہ شروع کیا ہے اس کے لیے سیل فون پر ایک ایپ اتارنی ہوتی ہے اور پھر سیلفی کی تصدیق کے بعد رقم کی ادائیگی ممکن ہوتی ہے۔ امریکی کمپنی کا کہنا ہیکہ اگر سیلفی ادائیگی کا طریقہ عام ہوجائے تو اس سے رقم کا لین دین مزید تیز اور محفوظ ہوجائے گا



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…