جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

اللہ کے بعد اس ملک کی حقیقی ذمہ داری سپریم کورٹ پر آ گئی ہے‘ شیخ رشید

datetime 2  جون‬‮  2022 |

لاہور( این این آئی) سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اللہ کے بعد اس ملک کی حقیقی ذمہ داری سپریم کورٹ پر آ گئی ہے ،امپورٹڈ حکمران اپنے کیسز پر فرد جرم عائد نہیں ہونے دے رہے ،کبھی ملک سے باہر چلے جاتے ہیں کبھی دوسرے شہر چلے جاتے ہیں

اور کبھی کمر میں درد نکل آتی ہے،ایف آئی اے، اے این ایف اور نیب شدید ترین دبائو میں ہے سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے۔ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ کھانے پکانے کے گھی میں دو سو روپے فی کلو کا ایک دن میں اضافہ ظلم عظیم ہے، جو مہنگائی ختم کرنے کا نعرہ لگاتے تھے انہوں نے غریب کو ہی تل دیا ہے ،جتنے عمران خان نے ساڑھے تین سال میں غیر ملکی دورے کیے اتنے امپورٹڈ حکومت نے ایک مہینے میں کرلیے، کھاد کی قیمتوں میں بھی سبسڈی ختم کردی گئی ہے، 8 سے 12 گھنٹے کی روزانہ لودشیڈنگ ہو رہی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ،جس طرح ملک اور صوبے پر قبضہ کروایا گیا اس کا نوٹس سپریم کورٹ ہی لے سکتا ہے، 25 تاریخ کو جو وحشیانہ طاقت کا استعمال کیا گیا اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی اس پر سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لینا چاہیے اور فرانزک رپورٹ طلب کرنی چاہیے۔ انہوںنے کہا کہ اجرتی قاتل راناثنااللہ ہر روز لوگوں کو ڈرا دھمکا رہے ہیں، اسلام آباد کوئی واشنگٹن ڈی سی نہیں ہے ،یہاں پر خود بھی کئی بار ان لوگوں نے احتجاج کیے ہیں اور کسی نے ان کو ہاتھ تک نہیں لگایا، جس کام کے لئے چور امپورٹڈ حکومت کو لایا گیا ہے اتنی ہی ان کی معیاد ہے ،مذاکرات سے کچھ نہیں نکلے گا کیونکہ حکمران اپنے کیس ختم کروانے آئے ہیں اور اب وہ جیل جانے سے ہر صورت بچنا چاہتے ہیں

۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت غنڈہ گردی کی بھینٹ چڑھی ہوئی ہے، بکنے والے لیڈر آف اپوزیشن اور جھوٹ بکنے والے حکمران بن گئے ہیں، اللہ تعالی اس ملک کی معیشت جمہوریت مہنگائی اور لوڈشیڈنگ پر رحم فرمائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…