اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کی ذمہ داری لارنس بشنوئی گینگ نے قبول کرلی ہے۔ نجی ٹی وی ٹوئنٹی فور کے مطابق بھارتی پنجاب پولیس کے چیف وی کے بھاوڑا نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سدھو موسے والا کا قتل
گزشتہ برس اگست میں اکالی دل کے یوتھ لیڈر وکی مدھوکھیڑا کے قتل کا ردِ عمل ہوسکتا ہے۔ وکی کے قتل کی سازش میں شگن پریت کا نام آیا تھا جو کہ سدھو موسے والا کے منیجر کے طور پر کام کرتا رہا ہے اور اب آسٹریلیا فرار ہوچکا ہے۔ پولیس چیف نے بتایا کہ گلوکار کے قتل کی ذمہ داری لارنس بشنوئی گینگ نے اپنے کینیڈا کے آپریٹو گولڈ براڑ کے ذریعے قبول کی ہے۔کیس کی مزید تحقیقات کیلئے سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔پولیس چیف نے اس بات کی تصدیق کی کہ موسے والا عمومی طور پر اپنی بلٹ پروف فارچونر میں سفر کرتے ہیں لیکن آج وہ نان بلٹ پروف جیپ میں موجود تھے جس کا حملہ آوروں نے فائدہ اٹھایا۔واضح رہے کہ پنجابی گلوکار سدھو موسے والا قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کو اتوار کو ضلع مانسا کے گاؤں جواہرکے میں نامعلوم حملہ آوروں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نامعلوم افراد نے سدھو کی گاڑی پر حملہ کیا اور 30 سے زائد گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں سدھو اور گاڑی میں موجود دیگر 2 افراد شدید زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم سدھو موسے والا اسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ دیگر 2 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔رپورٹس کے مطابق سدھو موسے والا نے اس سال کانگریس کے ٹکٹ پرمانسا سے پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا
لیکن انہیں عام آدمی پارٹی کے امیدوار وجے سنگلا نے63 ہزار ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی تھی۔بھارتی میڈیا کے مطابق
گزشتہ ماہ سدھو نے اپنے گانے ‘Scapegoat’ میں عام آدمی پارٹی اور اس کے حامیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ’غدار‘ کہا تھا۔رپورٹس کے مطابق ایک روز قبل ہی پنجاب حکومت کی جانب سے ان کی سکیورٹی واپس لے لی گئی تھی۔
گلوکار کی ہلاکت کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی فلم انڈسٹری اور سیاستدانوں نے ان کی موت پر شدید دکھ اور غم کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ سدھو موسے والا 17 جون 1993 کو پیدا ہوئے،
ان کا تعلق ضلع مانسا کے گاؤں موس والا سے تھا۔ پنجابی گلوکار کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں تھی اور وہ اپنے ریپ کے لیے مشہور تھے۔



















































