اتوار‬‮ ، 28 جون‬‮ 2026 

ٹیکس چوری ،ایف بی آرمیں ایک وزیراعلی کے برادرنسبتی کےخلاف مقدمہ درج ہونے کاانکشاف

datetime 18  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) ٹیکس جمع کرنے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی نااہلی پر وسیع پیمانے پر مایوسی ٹیکس حکام کی خوش گمانی کے بالکل برعکس ہے جو کہتے ہیں کہ ٹیکس چوراعلیٰ شخصیات کے خلاف بھی اقدامات کر رہے ہیں مگر غیر محسوس انداز میں ،ایک اعلیٰ افسر کا کہنا تھا کہ ن لیگی حکومت تاجر دوست سمجھی جاتی ہے، ہمیں ہدایت ہے کہ معاملات میں نرم مگر ایکشن میں سخت رہیں۔ اس سوال پر کہ بڑے ٹیکس نادہندگان کے اقتدار کی راہداریوں میں رابطوں کے باعث ایف بی آر ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے؟ ایک اہم افسر نے چلینج کیا کہ کسی بھی بزنس کا نام بتائیں جس کو چھیڑا نہ گیا ہو. روزنامہ جنگ کے صحافی عمرچیمہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک
افسر نے چند اہم لوگوں کے نام بتائے جن کے خلاف ایف بی آر سرگرم ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک موجودہ وزیراعلیٰ کے برادر نسبتی کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے ان کا ڈھکا چھپا اشارہ ایک شوگر مل کی جانب تھا جس کے مالک نے مبینہ طور پر 11کروڑ روپے کا ٹیکس چوری کیا دوسری شوگر مل 13 کروڑ وپے کا ٹیکس نہ دینے پر زیر تفتیش ہے ٹیکس افسر کے مطابق ٹیکس چوری میں بدنام ایک بڑے بزنس مین، جو ہمیشہ احتساب سے بچتا رہا ہے، اس نے سابقہ سال کے مقابلے میں ڈیڑھ ارب روپے زیادہ ٹیکس جمع کرایا ہے جبکہ اس کے غیر ظاہر شدہ بینک اکائونٹس اور خفیہ اثاثوں کی تحقیقات بھی ہو رہی ہے۔ اس افسر کے مطابق ٹیکس چوری پر ایک اور بڑے تاجر کے خلاف بھی انکوائری ہو رہی ہے، انہوں نے بتایا کہ مختلف ذرائع سے معلومات جمع کرنے کے بعد 2 لاکھ امیروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا گیا جس سے جی ڈی پی کی شرح میں ایف بی آر کے ٹیکس کا حصہ 8.4فیصد سے بڑھ کر 9.45فیصد ہوگیا، یہ شرح ریونیو جمع کرنے کے اقدامات کا بڑا انڈیکیٹر ہے، اگر ایف بی آر کے دائرہ کار سے باہر وسائل سے ٹیکس جمع کرنے ،جیسے گیس انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس، کا تخمینہ لگایا جائے تو جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح 10فیصد ہو جاتی ہے ، ہمارا ہدف آئندہ دو تین برس میں 13فیصد کی شرح حاصل کرنا ہے، ایف بی آر کے افسر کا کہنا تھا کہ ترکی میں 15 برس کے دوران ٹیکس کی جی ڈی پی میں شرح 23.5فیصد ہوگئی، اس نے سالانہ نصف فیصد کا اوسط اضافہ کیا جس کیلئے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ضروری تھا، اس سوال پر کہ ایف بی آر ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کو عام کرنے میں کیوں ہچکچاہٹ کا شکار ہے؟ افسر نے سیاسی وجوہ کا حوالہ دیا، ان کا کہنا تھا ن لیگی حکومت تجارت دوست سمجھی جاتی ہے، بڑی مچھلیوں کے متعلق نام و شرم پالیسی اس تاثر کو خراب کرے گی اگر بزنس کلاس کے خلاف کریک ڈائون شرو ع کیا گیا، اگر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اقدامات کوئی گائڈ ہیں تو گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کی بنکوں کے ذریعہ لین دین پر ود ہولڈنگ ٹیکس نافذ کر دیا جس سے تاجر ناراض ہوئے جو ،ن لیگ کا حلقہ انتخاب ہیں ،حکومت نے تاجروں کے دبائو کے سامنے مزاحمت کی اور اتنی لچک دکھائی کہ 30ستمبر تک اس کی شرح 0.6 سے کم کر کے 0.3 کر دی اور تاجروں کو گو شوا ر ے جمع کرانے کیلئے تین ماہ کی ڈیڈ لائن دی –

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…