جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

دیوالیہ پن کا شکار سری لنکا کا بیرونِ ملک مقیم شہریوں سے رقم بھیجنے کا مطالبہ

datetime 14  اپریل‬‮  2022 |

کولمبو(این این آئی)51ارب ڈالر کے قرضوں کے سبب ملک دیوالیہ ہونے کے اعلان کے بعد سری لنکا نے بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں سے رقم بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ خوراک اور ایندھن کی رقم کی ادائیگی میں مدد حاصل ہوسکے۔میڈیارپورٹس کے مطابق 1948 میں آزادی کے بعد جزیرہ شدید مالی بحران کا شکار ہے جبکہ اسے ضروری اشیا

کی قلت اور یومیہ بلیک آٹ کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔مرکزی بینک کے گورنر نندلال ویراسنگھ کا کہنا تھا کہ انہیں بیرون ملک مقیم سری لنکن عوام کی مدد کی ضرورت ہے تاکہ زرمبادلہ کی فراہمی کے ذریعے اس مشکل وقت میں ملک کی مدد کی جاسکے۔گورنر نے کہا کہ انہوں نے امریکا، برطانیہ اور جرمنی میں عطیات کے لیے بینک اکانٹ بنایا ہے، انہوں بیرون ملک مقیم سری لنکن شہریوں سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی رقم وہاں خرچ کی جائے گی جہاں اس کی بہت زیادہ ضرورت ہوگی۔اپنے ایک بیان میں نندلال ویرا سنگھ کا کہنا تھا کہ غیر ملکی زرمبادلہ کا استعمال خوراک،ایندھن اور ادویات سمیت دیگر اشیا ضروریہ کی برآمدات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ دیوالیہ پن نے سری لنکا کو 20 کروڑ ڈالر شرح سود کی ادائیگی سے بچا لیا ہے اور رقم اشیا ضروریہ کی برآمدات کے لیے ادا کی جائے گی۔

آسٹریلیا میں مقیم سری لنکن ڈاکٹر نے نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ ہمیں مدد کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ہمیں اپنی رقم کے حوالے سے حکومت پر بھروسہ نہیں ہے۔کینیڈا میں مقیم سری لنکن سوفٹ ویئر انجینئر نے دسمبر 2004 کے سونامی کے بعد جزیزے کو موصول ہونے والے لاکھوں ڈالرز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھروسہ نہیں ہے کہ یہ رقم ضرورت مندوں کے لیے استعمال کی جائے گی، یہ رقم بھی وہیں جاسکتی ہے جہاں سونامی کے فنڈز گئے تھے۔

سونامی کے بعد زندہ بچ جانے والوں کے لیے بھیجے گئے غیر ملکیوں کے عطیات سیاستدانوں کی جیبوں میں گئے تھے جن میں موجودہ وزیر اعظم مہندا راجا پکسے بھی شامل ہیں، جنہیں ان کے اکانٹ میں موجود سونامی کے فنڈ واپس دینے کے لیے مجبور کیا گیا تھا۔کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد سری لنکا کی معیشت شدید بحران کا شکار ہے کیونکہ ان کے ریونیو کا اہم ذریعہ سیاحت اور ترسیلات ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…