جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

واہگہ بارڈرپرپرچم اتارنے کی تقریب ،علاقہ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا

datetime 14  اگست‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک) پاکستان کے 69ویں یوم آزادی کے موقع پر واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی پرجوش اور پروقار تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ، واہگہ بارڈر پر فضاءنعرہ تکبیر اللہ اکبر ، پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الاللہ،پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی، شرکاءکا بھرپور جوش و خروش دیکھنے میں آیا ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے قریب واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب تو ہرروز ہوتی ہے مگر یوم آزادی کے موقعے پر اس کا رنگ ہی نرالا ہوتا ہے، ہزاروں پاکستانی بچے، نوجوان، بوڑھے اور خواتین جوق در جوق اس تقریب کو دیکھنے کیلئے واہگہ بارڈر پہنچتے ہیں۔ہر لمحہ قابل دید اور ہر نعرہ قابل شنید ہوتا ہے۔پاکستان کے 69ویں یوم آزادی کے موقع پر بھی واہگہ بارڈر پر قومی پرچم اتارنے کی تقریب سے قبل ہی ہزاروں کی تعداد میں شہری جمع ہوگئے جنہوں نے ہاتھوں میں قومی پرچم ،قائد اعظم اورعلامہ اقبال کی تصاویر پکڑرکھی تھیں جبکہ واہگہ بارڈر پر قومی پرچم اتارنے کی تقریب میں شرکت کیلئے دوسر ے شہروں سے بھی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔اس موقع پر یوم آزادی کے حوالے سے ملی نغمے بھی سنائے گئے جس پر وہاں موجود ہزاروں شرکا نے پاکستان ، قائد اعظم ، علامہ اقبال، فوج اور رینجرز کے حق میں نعرے بازی کی اورشدید بارش کے باوجود شرکا کا جوش وخروش مثالی رہا۔رینجرز کے جوان مخصوص انداز میں دفاع وطن کے لئے اپنے پختہ عزم کا اظہار کرتے رہے۔ رینجرز کے جوانوں کے ہر اٹھتے قدم پر فضا نعرہ تکبیر اللہ اکبر ، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھتی ۔پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والے شہدا کوبھی زبردست خراج عقیدت پیش کیاگیا۔ تقریب کے شرکا کا کہنا تھا کہ یہاں آ کر ایک خاص قومی جذبہ پیدا ہوتا ہے، رینجرز کے چاک و چوبند جوانوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قوم کے یہ سپاہی دفاع وطن کے لئے ہر لمحہ چوکس ہیں۔ اس موقع پر تقریب میں شرکت کیلئے آئے ہوئے رینجرز اہلکاروں کے ساتھ تصاویر اور پرچم اتارنے کی تقریب کی ویڈیوبھی بناتے رہے ۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…