ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

(ق) لیگ اور ایم کیو ایم نے مائنس عمران خان فارمولاپیش کردیا

datetime 18  مارچ‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن) حکومتی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم پاکستان نے شعبان میں بقر عید مانگ لی اور بحران حل کرنے کیلئے عمران خان مائنس ون فارمولا پیش کر دیا ہے ۔ نجی ٹی وی جیو کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ (ق) موجودہ سیاسی بھونچال میں نئی کہانی لے کر سامنے آگئیں، دونوں جماعتوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم خود تو نہیں بچ سکتے،

اب وہ پی ٹی آئی کی حکومت بچانے کی کوشش کریں۔ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم تو بچتے ہوئے نظر نہیں آرہے لیکن پی ٹی آئی حکومت بچ سکتی ہے لہٰذا حکومت بچانے کے لیے ایسے بہت سے آپشن ہیں جن پر غور ہو سکتا ہے۔دوسری جانب (ق) لیگ کے رہنما طارق بشیر چیمہ کی جانب سے خالد مقبول صدیقی کی بات کی تائید کی گئی ہے۔طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ کوئی نیا ایڈونچر کرنے کے بجائے پی ٹی آئی سے ہی کسی ایسے رکن کو سامنے لائیں جس پر وزارتِ عظمیٰ کے لیے اتفاق کیا جاسکے ، ووٹنگ کے دن تک کی مہلت ہے۔دوسری جانب پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمن اور اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ حکومت کو اب من مانی نہیں کرنے دی جائیگی ، اسپیکر قومی اسمبلی نے اگر آئین اور قانون کا غلط استعمال کیا تو ان کے خلاف بھی عدم اعتماد لائیں گے، اسپیکر عمران خان کو بچانے کیلئے طویل عرصے تک اجلاس ملتوی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن لیڈرشہبازشریف سے منسٹر کالونی میںان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی ۔ ملاقات میں احسن اقبال، اکرم خان درانی، مولانا اسعد محمود بھی شامل تھے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں عدم اعتماد سے متعلق مشاورت حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے ، ملاقات میں حکومتی ممبران کی اپوزیشن کو یقین دہانی سے متعلق سمیت حکومتی اتحادیوں کے تحفظات پر بات چیت کی گئی ۔ ملاقات میں حکومتی اتحادیوں سے رابطوں سے متعلق مشاورت اور ملاقاتیںجاری رکھنے کافیصلہ کیاگیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ق لیگ اور ایم کیو سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری ہوگی۔باپ والے بھی حکومت سے تنگ ہیں ان کو بھی ساتھ ملائیں گے۔ انہوں نے کہاحکومت کو اب من مانی نہیں کرنے دی جائیگی ۔دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ اسپیکر نے اگر آئین اور قانون کا غلط استعمال کیا تو ان کے خلاف بھی عدم اعتماد لائیں گے۔اس موقع پر شہباز شریف نے کہا اسپیکر عمران خان کو بچانے کیلئے طویل عرصے تک اجلاس ملتوی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسی کسی بھی کوشش کی مزاحمت اور مخالفت ہوگی۔ ملاقات کے دوران احسن اقبال نے کہا ا سپیکر کو چودہ دن میں اجلاس بلا کر سات دن میں سارا عمل مکمل کرنا ہے۔اپوزیشن کی قانونی ٹیم کو حکومت اور سپیکر کے کسی بھی غیر آئینی اقدام کو عدالت میں چیلنج کرنے کیلیے تیاری کا حکم دیا گیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…