منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

روس اور ہالینڈ کے درمیان ”محبت ”کی جنگ چھڑ گئی

datetime 14  اگست‬‮  2015 |

ماسکو(نیوز ڈیسک)روس اور پھولوں کی کاشت کاری کے حوالے سے مشہور ملک ہالینڈ کے درمیان بعض غیر قانونی اشیاءکی درآمدات وبرآمدات پر اختلافات کے بعد معاملہ زیادہ شدت اختیار گیا ہے۔گزشتہ ہفتے روسی حکام نے ہالینڈ سے درآمد کی جانے والی غذائی اشیاکی بڑی مقدار نذر آتش کر دی تھی اور اب ہالینڈ سے آنے والے پھولوں کو بھی نذر آتش کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔روسی حکام کا کہنا ہے کہ ہالینڈ سے درآمد کیے جانے والے پھول اب تک روس میں پھولوں کی مارکیٹ میں اہمیت کے حامل رہے ہیں اور روسی ہر برس 2.5 ارب ڈالر کے پھول ہالینڈ سے منگواتے رہے ہیں مگر ہالینڈ سے لائے جانے والے پھول صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو رہے ہیں، اس لیے انہیں تلف کیا جا رہا ہے۔مبصرین روس اور ہالینڈ کے درمیان پھولوں کی جنگ کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پھولوں کے مضرصحت ہونے کا دعوی محض ایک بہانہ ہے ورنہ اس کے پس پردہ روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی اصل محرک ہے۔خاص طورپر پھولوں کی اس جنگ کے پس پشت حال ہی میں ہالینڈ کے ہاں پچھلے سال ملائیشیا کے ایک مسافر بردار ہوائی جہاز کو تباہ کرنے کی تحقیقات بنی ہیں جن میں یہ دعوی ٰکیا گیا تھا کہ مشرقی یوکرین میں پچھلے سال جولائی میں گر کر تباہ ہونے والے ملائیشین ہوائی جہاز کے ملبے سے روسی ساختہ میزائل کے ٹکڑے برآمد ہوئے ہیں۔ہالینڈ کی تحقیقاتی رپورٹ پر روس سیخ پا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماسکو نے پچھلے ہفتے ہالینڈ سے درآمد کی جانے والی غذائی اشیا کی بڑی مقدار غیر قانونی قرار دے کر جلا دی تھی اور اگلے مرحلے میں ہالینڈ کے پھولوں کو بھی تلف کیا جا رہا ہے۔خیال رہے کہ روسی عوام پھولوں کے دلدادہ سمجھے جاتے ہیں۔ماسکو حکام کی طرف سے ہالینڈ کے پھولوں کو نذر آتش کیے جانے سے نہ صرف بے روزگای میں اضافہ ہوگا بلکہ پھولوں کی قیمتیں بھی غیر معمولی حد تک بڑھ جائیں گی۔ماسکو میں تعلیمی ادارے کھلنے والے ہیں۔اسکولوں اور تعلیمی اداروں کی تعطیلات کے ختم ہوتے ہی طلبا اپنے اساتذہ کے لیے پھولوں کے تحفے خریدتے ہیں۔اگر ہالینڈ سے لائے گئے پھول تلف کر دیے گئے تو روس میں پھولوں کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔روس کے ایک ٹی وی چینل نے ماسکو حکام کے پھولوں سے بھرے کنٹینر نذر آتش کرنے کے ویڈیو کلپس نشر کیے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہالینڈ کے پھولوں کو نذر آتش کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔روس کی جانب سے پھولوں پر پابندی کے بعد ہالینڈ نے پھولوں کی نئی مارکیٹ کی تلاش بھی شروع کی ہے۔ہالینڈ اب تک بیرون ملک فروخت کرنے والے پھولوں کا پانچ فی صد روس کو برآمد کرتا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…