جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

پاکستانی بلاگر کے قتل کی سازش میں ملوث برطانوی شخص کو سزا دی گئی

datetime 12  مارچ‬‮  2022 |

ایمسٹر ڈیم (این این آئی) ہالینڈ میں مقیم پاکستانی بلاگر احمد وقاص گورایہ کے قتل کی سازش میں ملوث 31 سالہ برطانوی شخص محمد گوہر خان کو برطانوی عدالت میں عمر قید کی سزا سنادی گئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق عدالت نے فیصلے میں کہا کہ گوہر خان کو پیرول کیلئے درخواست دینے کے اہل ہونے سے پہلے 13 سال سزا کاٹنی ہوگی، حراست میں گزارے گئے دن ان کی سزا میں شمار ہوں گے۔

برطانیہ کے فوجداری قانون ایکٹ 1977 کے سیکشن ون (ون) کے تحت قتل کی سازش ایک جرم ہے، اگر جرم ثابت ہوجاتا ہے تو مجرم کو چند سال سے لے کر زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔رواں سال جنوری میں ایک جیوری نے ایک متفقہ فیصلہ دیتے ہوئے گوہر خان کو روٹرڈیم میں خود ساختہ جلاوطن بلاگر وقاص گورایا کو قتل کرنے کی سازش کا قصوروار پایا تھا ۔گوہر خان پر گزشتہ سال جون میں وقاص گورایا کے قتل کی سازش کا الزام عائد کیا گیا تھا۔وقاص گورایا ایک سماجی کارکن ہیں جنہوں نے 2017 میں اسلام آباد میں اپنے اور 5 دیگر بلاگرز کے اغوا ہونے کے بعد پاکستان چھوڑ دیا تھا۔مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے بتایا کہ گوہر خان کو بلاگر وقاص گورایا کے قتل کا کنٹریکٹ پاکستان میں مقیم کچھ لوگوں نے دیا۔استغاثہ نے کہا کہ گوہر خان نے احمد وقاص گورایا کو قتل کرنے کی سازش کے تحت گزشتہ سال روٹرڈیم کا سفر کیا، انہوں نے وقاص گورایا کے گھر کے باہر جاسوسی شروع کی اور اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے لیے ایک آلہ قتل بھی خریدا۔وقاص گورایا کے قتل کے بدلے گوہر خان کو بطور معاوضہ ایک لاکھ پائونڈ کی پیشکش کی گئی۔

استغاثہ نے کہا کہ گوہر خان اس وقت بھاری قرض میں جکڑا ہوا تھا جس کی ادائیگی کیلئے اس کے پاس کا کوئی واضح ذریعہ موجود نہیں تھا۔استغاثہ نے جیوری کو بتایا کہ گوہر خان اس قتل کے ذریعے پیسہ کمانے اور مستقبل میں ایسے مزید حملے کرنے کیلئے پرجوش تھا۔جیوری کو بتایا گیا کہ کس طرح پاکستان میں مقیم مڈل مین مزمل نے مبینہ طور پر 2021 میں گوہر خان سے اس کام کیلئے 80 ہزار پاؤنڈ ادا کرنے کی پیشکش کے ساتھ رابطہ کیا اور اسے 20 ہزار پائونڈ کے اپنے کمیشن کے بارے میں بھی بتایا۔

موضوعات:



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…