جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ممبئی کا سمندر نوٹوں کی گنگا بن گیا

datetime 12  اگست‬‮  2015 |

ممبئی(نیوزڈیسک) ممبئی کا سمندر اچانک نوٹوں کی گنگا بن گیا جہاں گیٹ وے پر ایک ہزار کے نوٹ پانی پر تیرتے دیکھ کوشہری حیرت زدہ رہ گئے اور گہرے پانی کے باوجود ان نوٹوں کے حصول کے کالیے کئی افراد نے اپنی جان کی بازی لگا کر پانی میں چھلانگ لگائی اور نوٹ بٹورلیے۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق دوپہر کے وقت اچانک ممبئی گیٹ وے پر تیرتے ایک ہزار کے نوٹ کہیں سے بہہ کر وہاں پہنچ گئے جسے دیکھ شہری خوشگوار حیرت میں ڈوب گئے اور گہرے پانی کے باوجود کچھ منچلوں نے ان نوٹوں کو پکڑنے کے لیے سمندر کی گہرائی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس میں چھلانگ لگادی۔ایک شہری ہری چندرا کا کہنا تھا کہ اس نے جب نوٹوں کو گیٹ وے کی دیوار کےساتھ بہتے دیکھا تو چھلانگ لگا کر کافی محنت کے بعد ہزار کے 2 نوٹ پکڑے اور گھر دے کر پھر واپس آیا اور ایک 2 بار پھر کوشش کی جس میں 3 اور نوٹ اس کے ہاتھ لگ گئے۔ ہری چندرا کا کہنا تھا کہ وہ 5 ہزار جمع کرنے کے بعد دوبارہ پانی میں نہیں کودا کیوں کہ اب پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوچکی تھی جب کہ ایک اور شہری ایس وکیل نے بھی ہزار کا ایک نوٹ پکڑ لیا اور جب دوبارہ پانی میں کودا تو عین اس وقت پولیس نے موقع پر پہنچ کر اسے پکڑ لیا۔پانی نوٹوں کی گنگا کس طرح بنی اس بارے میں ایک شہری کا کہنا ہے کہ ایک غیر ملکی شخص نے ہزار کے نوٹوں والا بنڈل پانی میں پھینکا اور جو لوگ اسے دیکھ رہے تھے انہوں نے فوراً تیرکر کئی نوٹ پکڑ لیے۔دوسری جانب پولیس کاکہنا ہے کہ پانی میں چھلانگ لگا کرنوٹوں کو پکڑنے والے3 افراد کو حراست میں لیا گیا جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا جب کہ نوٹوں کے پانی میں اس طرح پھینکنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…