جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

استعفے ٰ منظور ہوگئے ، ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ رابطہ کمیٹی کرے گی، الطاف حسین

datetime 12  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)الطاف حسین نے استعفوں کے بعد ملکی اداروں کے ساتھ مصالحت کا فارمولا پیش کردیا ، نجی ٹی وی کے پروگرام میں دفاعی تجزیہ نگار شہزاد چودھری سے انہوں نے کہا کہ آپ ریٹائرڈ ہیں لیکن پھر بھی  آرمی چیف راحیل شریف سے بات کریں اور انہیں کہیں کہ وہ رینجر کو ٹھیک طرح سے آپریشن کرنے کی ہدایت کریں ، میں بھی اپنی طرف سے معاملات درست کرنے کی کوشش کرتا ہوں، کوشش کرونگا کہ اداروں کے خلاف کوئی ایسی ویسی بات نہ ہو ، اگر رینجر کسی کو بلاوجہ نہ مارے تو زخم بھر جائیں گے ۔ معروف صحافی سے گفتگوہوئے متحدہ کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ اگر آپ حکم کریں تو استعفوں کا فیصلہ ابھی واپس لے لیتا ہوں, ان کا کہنا تھاکہ  برطانیہ نے برصغیر کو 3خطوں میں تقسیم کیا ، اگر یہ تینوں حصے ایک ہوتے تو آج ہم ہندوستان پر حکمران ہوتے ، مولانا مودودی ، سقراط اور الطاف حسین ایک ہی پیدا ہوتا ہے ، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی متحدہ کے ساتھ کی گئی غلطیاں اور وفاقی حکومت کا غیر مناسب رویہ ہمارے لیے تحفظات کا باعث بنا ہے ، استعفے دے دیے ہیں ، منظور بھی ہوگئے ہیں آپ اگر کہتے ہیں تو واپس لے لیتا ہوں ، الطاف حسین کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ، یہ نہ الطاف حسین کی ملکیت ہے نہ نواز شریف کی بلکہ یہ اس ملک میں بسنے والے 20کروڑ عوام کا ملک ہے، ملک کو ترقی کی راہ پر دیکھنا چاہتا ہوں، ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کے سوال پر ان کا جواب تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کا رویہ دیکھیں گے ، حصہ لینے یہ نہ لینے کا فیصلہ رابطہ کمیٹی کرے گی ،دوسری طرف تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے ایم کیو ایم ضمنی الیکشن میں حصہ لے سکتی ہے اس طرح ان کا ووٹر تازہ دم ہوکر دوبارہ اپنے منتخب رکن اسمبلی میں بھیج سکتا ہے ، سیاسی خلا پیدا ہوگااس سے سیاسی بحران کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے ۔الطاف حسین نے کہا ہے کہ کراچی میں رینجرز نے آپریشن ایمانداری سے کیا تو آہستہ آہستہ ہمارے زخم دھل جائیں گے اور وہ بھی کوشش کریں گے ان کی وجہ سے اداروں کے وقار کو ٹھیس نہ پہنچے۔الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی کے استعفے منظور ہوگئے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کے رویے کو دیکھ کر ضمنی انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ رابطہ کمیٹی کرے گی، کسی بھی ملک میں فوج حاکم نہیں نوکر ہوتی ہے، رینجرز نے آپریشن ایمانداری سے کیا تو بات ختم ہوجائے گی اور آہستہ آہستہ ہمارے زخم بھر جائیں گے، زخموں پر مرہم لگے گی تو ہم بھی قریب آجائیں گے۔ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ پاکستان آصف زرداری، وزیر اعظم نواز شریف یا خود ان کی جاگیر نہیں، یہ ملک یہاں بسنے والے 20 کروڑ عوام کا ہے۔ نواز شریف اور آصف زرداری اس ملک کو بگاڑ ہی سکتے ہیں سنوار نہیں سکتے، وہ پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، اس لئے انہوں نے ایسے طاقتور حاکم کی بات کی جو خود بھی ایماندار ہو ،اگر وہ بھی چور ہوں تو ان ہیں بھی لٹکا دیا جائے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…