منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت ہونے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

datetime 16  فروری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت ہونے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ عدالت عالیہ نے نے پٹیشنر سے سوال کیا ہے کہ کاغذات نامزدگی سے قبل شہریت چھوڑی تھی یا نہیں؟، کل تک اس عدالت میں امریکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ پیش کرسکتے ہیں؟۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں

گزشتہ روز فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحیات نااہلی کو چیلنج کیا ، بدھ کو ان کی درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سماعت کی ۔درخواست کی سماعت کے آغاز پر فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے اپنے دلائل میں بتایا کہ الیکشن کمیشن نے میرے موکل کو جھوٹے بیان حلفی کی بنیاد پر نااہل قرار دیا ہے اور انہیں تمام تنخواہیں، مراعات دو ماہ میں واپس کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔فیصل واوڈا نے جون 2018 ء میں کاغذات نامزدگی کیلئے بیان حلفی جمع کرایا تھا، پھر 3 مارچ کو بطور رکن قومی اسمبلی استعفیٰ دے دیا تھا،اب فیصل واوڈا بطور رکن اسمبلی مستعفی ہوچکے اور الیکشن کمیشن نے بطور سینیٹر بھی نااہل قرار دے دیا۔وسیم سجاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لاء نہیں، اس کے پاس اختیار نہیں تھا کہ نااہل قرار دیتا،الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کا فیصلہ نہیں سنا سکتا۔چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے اپنے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کا آرڈر تھا کہ بیان حلفی غلط نکلا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے، کیا کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے قبل شہریت چھوڑی تھی یا نہیں؟وکیل فیصل واوڈا نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں جھوٹے بیان حلفی کیلئے توہین عدالت کا لفظ نہیں لکھا گیا، چیف جسٹس نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ قانون ہے جس میں کئی قانون سازوں کو نااہل بھی کیا گیا، اس کیس کو چھوڑ کر سمجھا دیں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیسے ہوگا؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیاکہ کیا فیصل واوڈا نے امریکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ کہیں جمع کرایا؟

ایڈووکیٹ وسیم سجاد بولے پٹیشنر نے کہیں بھی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیا۔ایڈووکیٹ وسیم سجاد نے جواب دیاکہ جھوٹا بیان حلفی آئے تو انکوائری کے بعد کورٹ آف لاء کو کارروائی کا اختیار ہے۔اس پر ہائیکورٹ نے کہاکہ وہ اپنی نیک نیتی ثابت کرتے اور سرٹیفکیٹ پیش کرتے، عدالتی فیصلے کے بعد ذمہ داری پٹیشنر پر تھی کہ شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ پیش کرتا۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیاکہ اگر الیکشن کمیشن اس نتیجے پر پہنچا کہ بیان حلفی جھوٹا ہے تو کیا کرتا،؟صرف یہ بتائیں فیصل واوڈا کیسے صاف نیتی ثابت کرتے ہیں؟وسیم سجاد ایڈووکیٹ نے کہاکہ الیکشن کمیشن بیان حلفی کی انکوائری کرسکتا ہ


ے، دیکھنا ہوگا اس کے بعد کیا پراسیس ہے؟،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہاکہ کیا الیکشن کمیشن انکوائری کرکے کیس سپریم کورٹ کو بھجوائے۔ایڈووکیٹ وسیم سجاد نے کہاکہ یہ بات شہادت سے ثابت ہوسکتی ہے کہ جان بوجھ کر جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا گیا، جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیئے کہ اب آپ پٹیشن آئینی عدالت لائے ہیں تو یہ کورٹ نااہلی کا فیصلہ سنا دے؟چیف جسٹس نے وکیل سے سوال کیا کہ یہ بتادیں سپریم کورٹ میں کوئی جھوٹا بیان حلفی جمع کرائے تو اس کے کیا نتائج ہوسکتے ہیں؟،

وسیم سجاد نے جواب دیاکہ بیان حلفی چھوٹا ثابت ہو تو اس کے خلاف کیس چلایا جا سکتا ہے۔وسیم سجاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ فیصل واوڈا کا بیان حلفی جھوٹا بھی ثابت ہو تو وہ صرف بطور رکن قومی اسمبلی نااہل ہوسکتے تھے،وہ بطور رکن اسمبلی مستعفی ہوچکے، تاحیات نااہلی کا فیصلہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ جس الیکشن کیلئے بیان حلفی جمع کرایا گیا صرف اسی نشست کیلئے نااہل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہے کیا الیکشن کمیشن ازخود کسی کو نااہل قرار دے سکتا ہے یا نہیں؟،اگر بیان حلفی کورٹ آف لاء کے سامنے جھوٹا ثابت ہو تو نااہل قرار دیا جاسکتا ہے،تاحیات نااہلی سیاست میں سزائے موت کی طرح ہے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے پوچھا کہ کیا پٹیشنر کل تک اس عدالت میں امریکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ پیش کرسکتے ہیں؟۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…