منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان میں موجود قرآن کا پہاڑ جہاں کروڑوں قرآن محفوظ ہیں

datetime 16  فروری‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )دنیا میں بے شمار ایسے مقامات دریافت ہوئے ہیں جہاں پر قرآن پاک کے کئی پرانے اوراق ملے ہیں ۔ ان میں جگہوں میں سے ایک جگہ پاکستان میں بھی موجود ہے جہاں پر کئی صدیوں سے قرآن مجید کے پرانے نسخے برآمد ہوئے ہیں لیکن اس جگہ کے بارے میں بہت کم لوگ ہی جانتے ہیں ۔ جی ہاں وہ جگہ پہاڑ کی شکل میں ہے جہاں اندر موجود غاروں کے

اندر قرآن کے ہاتھوں سے لکھے گئے پرانے نسخے موجود ہیں۔اس جگہ کو جبل نور القرآن کہا جاتا ہے۔ہماری ویب کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ کے نواحی چلتن پہاڑ میں دو بھائیوں نے 1992 میں ایک غار ’جبل نور القرآن‘میں قرآن کے پھٹے پرانے اوراق اور نسخے محفوظ کرنا شروع کیے اور آج یہاں پر تقریباً 20 لاکھ قرآن کے ایسے نسخے موجود ہیں۔جبل نور القرآن سو سے زائد چھوٹے بڑے غاروں پر مشتمل ہے اور یہ ایک میوزیم کی حیثیت اختیار کر گیا ہے، جہاں لوگ سیاحت کے علاوہ عبادات کے لیے تشریف لاتے ہیں۔قرآن شریف کے شہید نسخوں کا مدفن کوئٹہ کا جبل نور، کروڑوں شہید نسخے جبل نور کی سرنگوں میں دفن ہیں۔ شہید نسخوں کی تدفین کیلئے نئی سرنگوں کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواح میں جبل نور نامی ایک پہاڑی موجود ہے جسے قرآن شریف کے شہید نسخوں کا مدفن بھی کہا جاتا ہے۔ اس پہاڑی کی سرنگوں میں قرآن پاک کے شہید نسخوں کی تدفین کی گئی ہےجبکہ قرآن شریف کے شہید نسخوں کی مزید آمد کے ساتھ ساتھ نئی سرنگوں کی کھدائی کا کام اب تک جاری ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جبل نور القرآن کے سربراہ عبدالرشید لہڑی نے بتایا کہ ان کے بھائی نے قرآن شریف کے شہید نسخوں کو محفوظ بنانے کیلئے کام شروع کیا اور وہ قرآن شریف کے شہید نسخوں کو جمع کر کے ان کی محفوظ طریقے سے تدفین کرنے لگ گیا. اس کام میں پھر ان کے دوست بھی شامل ہو گئے اور بعد میں پھر ہم نے اس کام کیلئے جبل نور کی پہاڑی حاصل کرلی اور سرنگیں بنا کر قرآن شریف کے شہید نسخوں کو محفوظ بنانے کا کام شروع کر دیا۔عبدالرشید لہڑی کے مطابق یہاں روزانہ پاکستان بھر سے قرآن شریف کے شہید نسخے جمع کر کے لائے جاتے ہیں اور پھر ان کا جائزہ لینے کے بعد جو نسخے بہتر حالت میں ہوتے ہیں ان کو ری پیئر کر دیا جاتا ہے جبکہ زیادہ بوسیدہ نسخوں کو جبل نور پہاڑی میں تعمیر کی گئی سرنگوں میں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔کوئٹہ کی جبل نور پہاڑی میں طلب کے ساتھ مزید سرنگوں کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے۔ واضح رہے کہ مقدس اوراق کو محفوظ کرنے کیلئے پاکستان بھر میں مختلف سوسائٹیز کام کر رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…