جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پاک چین اقتصادی راہداری،بیلا روس نے پاکستان کو اہم پیشکش کردی

datetime 11  اگست‬‮  2015 |

منسک (نیوزڈیسک)پاکستان اور بیلا روس نے طویل المدت شراکت داری کےلئے لائحہ عمل وضع کر نے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مضبوط بنیاد دونوں اطراف کو اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ کا موقع فراہم کرے گی. اعلیٰ سطح پر تبادلے مثبت علامت ہیں جاری رہنا چاہئے جبکہ بیلا روس کے وزیر اعظم نے پاک ۔ چین اقتصادی راہداری کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کے منصوبہ جات میں پاکستان کو معاونت کی پیشکش کردی ۔منگل کو وزیراعظم محمد نواز شریف ہاﺅس آف گورنمنٹ پہنچے تو وزیراعظم آندرے کوبیا کوف نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اسٹیٹک گارڈز نے انہیں سلامی پیش کی جس کے بعد پاکستانی وزیراعظم محمد نواز شریف اور بیلاروس کے وزیراعظم آندرے کوبیا کوف کے درمیان ہاﺅس آف گورنمنٹ میں ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات ,دہشتگردی کے خلاف جنگ ¾ خطے کی صورتحال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا وزیراعظم محمد نواز شریف کے وفد میں وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید، وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر، وزیر قومی غذائی تحفظ سکندر حیات بھوسن، وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی شامل تھے۔ملاقات کے دور ان بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان کئی شعبوں میں روابط بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے بیلاروس پاکستان مشترکہ اقتصادی کمیشن کو ستمبر تک روڈ میپ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپنے کے حوالے سے بیلاروس کے وزیراعظم کی تجویز سے اتفاق کیابیلاروس کے وزیراعظم نے کہا کہ اب تک ہونے والی پیشرفت کے پیش نظر انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ایک سال کے عرصہ میں نئی بلندیوں کو چھوتا ہوا دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط بنیاد دونوں اطراف کو اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ کا موقع فراہم کرے گی۔ آندرے کوبیا کوف نے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے لئے بھرپور شیڈول تیار کرنے پر زور دیا تاکہ پاکستان کے زراعت اور صنعتی شعبوں میں تعاون کے لئے تجاویز کا ٹھوس پیکیج تیار کیا جا سکے۔ انہوں نے پاک ۔ چین اقتصادی راہداری کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کے منصوبہ جات میں پاکستان کو معاونت کی پیشکش کی۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ صدر الیگزینڈر لوکا شینکو کے جرات مندانہ اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تیزی سے آگے بڑھے ہیں اور محض دو ماہ کے عرصہ میں دونوں ممالک نے اچھی پیشرفت کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک مختلف علاقائی اور بین الاقوامی ایشوز پر یکساں خیالات رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح پر تبادلے مثبت علامت ہیں اور ان کو جاری رہنا چاہئے۔ دونوں ممالک کے درمیان بیلاروس کے صدر لوکا شینکو کے دورہ پاکستان اور منسک میں طے پانے والے معاہدوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان سے دوطرفہ تعلقات کے استحکام اور تعاون کے فروغ کے لئے ٹھوس ڈھانچہ میسر آیا ہے وزیراعظم نے اپنی حکومت کو درپیش چیلنجوں اور توانائی کی قلت پر قابو پانے اور انسداد انتہاءپسندی کے لئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے۔ پوری قوم اس حوالے سے متحد کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن ”ضرب عضب“ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے حوالے سے بہت زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ تجارتی تعلقات کے استحکام کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے شاندار مواقع پیش کرتا ہے اور تقریباً 20 کروڑ کی آبادی کی مارکیٹ کے لئے سرمایہ کاری دوست قواعد و ضوابط ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان نہ صرف سستی افرادی قوت فراہم کرتا ہے بلکہ سرمایہ کاری کے لئے پرکشش مراعات بھی پیش کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے لئے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے اور صنعتی مصنوعات کے لئے ایک بڑی منڈی ہے۔ انہوں نے بیلاروس کے سرمایہ کاروں کو خصوصی اقتصادی زونز میں حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی مراعات سے استفادہ کی دعوت دی۔ وزیراعظم نے مشترکہ اقتصادی کمیشن اور پاک ۔ بیلاروس بزنس کونسل کے پہلے اجلاس کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لئے مضبوط بنیاد استوار کرنے کے لئے ابتدائی خاکہ تیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دفاعی پیداوار کے میدان میں بھی بیلاروس کے ساتھ مضبوط تر اشتراک کار کا خواہاں ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…