منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

ڈاکٹر نمرتا کماری کی موت خودکشی یا قتل ؟ جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

datetime 16  فروری‬‮  2022 |

لاڑکانہ(این این آئی)آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتاکماری کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں موت کو خودکشی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نمرتا کماری کے قتل کے شواہد نہیں ملے۔تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ ڈاکٹر نمرتا کماری کی جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ منظر عام پر آگئی ،جوڈیشل انکوائری رپورٹ 18 صفحات پر مشتمل ہے۔جس میں بتایا گیا کہ

ڈاکٹر نمرتا چندانی کی موت خودکشی کے باعث ہوئی ، والدین کا سخت رویہ اور کلاس فیلو کی بے وفائی خودکشی کاسبب بنی۔جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نمرتا سخت ذہنی دبا کے باعث خودکشی پر مجبور تھی تاہم نمرتاکماری قتل کے شواہد نہیں ملے۔رپورٹ کے مطابق پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر کی رپورٹ پیچیدہ اور الجھانے والی تھی، ڈاکٹر نمرتا پوسٹ مارٹم میں بتا نہیں سکیں کہ یہ قتل تھا یا خودکشی، جس کے بعد ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ کلاس فیلو علی شان نے مہران ابڑو کوصبح 10 بجے میسیج کیا نمرتا اب نہیں رہی اور انکشاف کیا کہ نمرتا نے 11 اور 12 بجے 2خواتین سے ملاقات کی، علی شان میمن سے تحقیقات کی جائیں کہ اس نے10 بجے میسج کس بنیادپرکیا۔جوڈیشل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نمرتا کے جسم پر تشدد کے نشانات نہ تھے اوریہ قتل بھی نہیں ، ہاسٹل کے کمرے کا تالہ توڑے جانے کے وقت نمرتا کی حالت خراب تھی، انٹر لاک نہ ہونے کے باعث ڈاکٹر نمرتا کا کمرا زبردستی توڑا گیا۔رپورٹ کے مطابق متعدد طلبہ و طالبات کمرے میں داخل ہوئے،کرائم سین محفوظ نہ ہوسکا۔خیال رہے جوڈیشل انکوائری رپورٹ 30 نومبر 2019 کو ہوم ڈیپارٹمنٹ سندھ کو بھیجی گئی ، جوڈیشل انکوائری نے 45 افراد کے بیان قلمبند کیے۔یاد رہے 16 ستمبر2019 کو بی بی آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ کی ہاسٹل سے لاش برآمد ہوئی تھی ، نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال نے خودکشی کے امکان کو رد کر دیا تھا۔نمرتا کے بھائی کے مطابق اس کی بہن خود کشی نہیں کرسکتی، اسے قتل کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…