ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

دکھا یا کچھ بیچا کچھ اور۔۔۔ نجی ہائوسنگ سکیم ائیر پورٹ گرین گارڈن پرائیویٹ لمیٹڈکی جانب سے میگا لیول فراڈ، اربوں روپے کی ہیر پھیرکا انکشاف

datetime 27  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نجی ہائوسنگ سکیم ائیر پورٹ گرین گارڈن پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے شہریوں کیساتھ بہت بڑا فراڈ کئے جانے کا انکشاف، تفصیلات کے مطابق نیو اسلام آباد ائیرپورٹ کے قریب اگست 2020میں ایک نجی ہائوسنگ سکیم ائیرپورٹ گرین گارڈن کے نام سے لانچ کی گئی،

یہاں ان کا ماسٹر پلان تھا جو راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے منظور شدہ تھا ، اس کے اندر انتظامیہ نے کئی پلاٹ بک کئے ،فراڈ کے شکار ایک شہری ذیشان علی نے دہائی دیتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اس سکیم کے اندر 3پلاٹ 10،10مرلے کے بک کروائے جن کی فی کس مالیت 55لاکھ روپے تھی، اس کی 8اقساط تھیں جس میں سے میں نے بروقت 5اقساط ادا کیں ، اسی طرح باقی لوگوں نے بھی اپنی اقساط ادا کیں ، انتظامیہ نے 3، 4ماہ قبل سکیم کی ایکسٹینشن کرلی ، اب اس ایکسٹینشن میں دو مسائل سامنے آئے پہلی یہ کہ زمین سرے سے موجود ہی نہیں دوسرا یہ کہ اگر مذکورہ زمین خریدلی بھی جائے تو یہ بہت دور پڑتی ہے ، مطلب یہ وہ زمین نہیں ہے جو انہوں نے دکھا کر پلاٹ بیچے تھے ، اب دسمبر 2021میں انہوں نے پلاٹوں کی بیلیٹنگ کی اور اس میں دو نمبری سامنے آئی کہ اس میں ایکسٹینشن ایریا شامل کرلیا گیاحالانکہ یہ ایسا نہیں کرسکتے،بہت سارے لوگوں کیساتھ بہت بڑا فراڈ ہوا ہے ، انتظامیہ نے ملی بھگت سے میگا لیول پر فراڈ کیا ، رابطے پر انتظامیہ کی جانب سے دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ جو کرنا ہے کرلو، اس حوالے سے متاثرہ شخص ذیشان علی نے نجی ہائوسنگ سکیم ائیر پورٹ گرین گارڈن پرائیویٹ لمیٹڈ کی انتظامیہ کو لیگل نوٹس بھیجا ہے جس میں ان سے مذکورہ الزامات کی جواب طلبی کی گئی ہے ۔متاثرین نے وزیر اعظم عمران خان ، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیئرمین نیب سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…