جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

خبردارہو جائیں، اب صرف سرکاری منظورشدہ پنکھے چلیں گے

datetime 18  جنوری‬‮  2022 |

مکوآنہ (این این آئی)فیصل آباد سمیت ملک بھر میں حکومت کی منظوری کے بغیر پنکھوں کی فروخت پر پابندی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ناقص مٹیریل سے بنے پنکھے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں، لہذا رواں سال جون سے صرف وزارت سائنس کے منظور شدہ

پنکھے فروخت کیے جا سکیں گے۔ اس ضمن میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کم بجلی خرچ کرنے والے پنکھوں کا ایس آر او جاری کردیا۔ایس آر او میں اس امر کا اظہار کیا گیا کہ آئندہ سیزن میں صرف وزارت سائنس کے منظور شدہ پنکھے بیچے جاسکیں گے جس کی وجہ سے دو عدد غازی بروتھا ڈیمز کے برابر بجلی بچت ہوگی۔وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مطابق ملک میں اس وقت 10 کروڑ پنکھے زیر استعمال ہیں اور ناقص میٹریل کے استعمال کے باعث پنکھے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معیاری پنکھوں کے استعمال سے بجلی بچائی جا سکتی ہے، کم بجلی خرچ کرنے والے پنکھوں سے بجلی کا بل کم ہوگا، معیاری پنکھوں کے استعمال سے 3400 میگاواٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے اور کم بجلی خرچ کرنیوالے پنکھوں کے استعمال سے بجلی کے بل میں بھی کمی آئے گی۔وزارت کے مطابق بچت ہونے والی بجلی کو انڈسٹری و دیگر شعبوں میں استعمال کیا جاسکے گا جبکہ ایس آر او جون 2022 سے نافذ العمل ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…