ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

کیا واقعی مری میں ہوٹل مالکان نے 20 سے 50 ہزار روپے تک کرایہ وصول کیا؟ صحافی نے رسید شیئر کردی

datetime 10  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )مری میں برفبانی کے طوفان کے بعد پھنس جانے والے سیاحوں کی جانب سےیہ الزام لگایا گیا کہ ان سے 40سے پچاس ہزار روپے ایک رات کا وصول کیا جارہا ہے ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر نورالعین دانش نے مری کے ایک ہوٹل کی رسید ٹویٹر پر شیئر کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک فیملی سے بیس ہزار روپے کرایہ وصول کیا گیا ہے ،

صحافی کا کہنا تھا کہ مری کی قیامت خیز رات میں بغیر ہیٹر اور گرم پانی کے ایک کمرے کا 20ہزار کرایہ پھراگلےروز 12بجے کمرہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ہوٹل کا کارڈ بل سمیت موجود ہے ، اب دیکھتے ہیں انتظامیہ اس پر کیا ایکشن لے سکتی ہے۔”دوسری جانب مری سے واپس آنے والے سیاحوں نے انکشاف کیا ہے کہ مری میں انڈہ 500، پانی کی بوتل 500، کمرہ 50 ہزار، ٹائر کی چینز 30 ہزار اور برف میں پھنسی گاڑی 5 ہزار میں نکالی گئی، دوسری جانب شوبز کو خیر باد کہنے والی رابی پیرزادہ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مری میں برفباری میں پھنسے سیاحوں سے مقامی لوگوں نے اشیائے خورونوش اور ہوٹل کے کرائے کی مد میں بھاری رقم کا مطالبہ کیا گیا۔سابق گلوکارہ رابی پیرزادہ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک سیاح کی گفتگو شیئر کی ہے جس میں اس نے مری کے مقامی لوگوں کو منافق قرار دیتے ہوئے مقامی لوگوں کی جانب سے سیاحوں سے بھاری رقم لیے جانے کا انکشاف کیا ہے۔رابی پیرزادہ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ پر برف میں پھنسی ایک بس کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا یہ تصویر میں نے خود کھینچی تھی اور جو کچھ نیچے کسی بھائی نے لکھا ہے وہ حرف بہ حرف سچ ہے۔دو رات پہلے مری میں برف میں پھنسے ہوئے خاندانوں کو اہلیان مری پانچ سو روپے کا ایک انڈہ فروخت کر رہے تھے، ہوٹل کمرے کا کرایہ تیس ہزار سے پچاس ہزار مانگ رہے تھے اور پانی کی بوتل پانچ سو کی بیچ رہے تھے۔چھوٹی گاڑی کو دھکا لگانے کا تین ہزار اور بڑی گاڑی کو دھکا لگانے کا پانچ ہزار لے رہے تھے۔ آج سارے مددگار بنے ہوئے ہیں ہوٹل مالکان بھی نیک بن گئے۔واضح رہے کہ مری میں برفباری میں پھنس جانے سے 21 سے زائد افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، پنجاب حکومت کی جانب سے فوت ہو جانے والے افراد کے لواحقین کے لئے 8 لاکھ فی کس دینے کا فیصلہ ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…