منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

ترکی میں ادویات کے بعد ڈاکٹروں کا بحران ، ہزاروں ڈاکٹر مستعفی

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

انقرہ (این این آئی)ترک میڈیکل ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق ملک میں محکمہ صحت کو ایک نئے بحران کا سامنا ہے۔ ادویات کی قلت کا بحران ابھی تھما نہیں تھا کہ محکمہ صحت کے زیرانتظام چلنیوالے اسپتالوں سے منسلک ہزاروں ڈاکٹر مستعفی ہوگئے ہیں۔رپورٹ میں چونکا دینے والے اعدادو شمار بیان کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ

سال کے دوران سرکاری شعبے کے صحت کے اداروں میں تقریباً 8000 ڈاکٹروں نے مراکز صحت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ استعفیٰ دینے والے ڈاکٹرمختلف خصوصیات میں طبی خدمات فراہم کرتے ہیں۔اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ جن ڈاکٹروں نے اپنا استعفیٰ جمع کرایا ان میں سے 10 فی صد ڈینٹسٹ تھے جنہوں نے وزارت صحت سے منسلک طبی مراکز، کلینک اور اسپتالوں میں کام کیا۔ اس کی وجہ سے کچھ مراکز، کلینکس اور اسپتال دانتوں کے ماہرین سیخالی ہوگئے۔ مقامی میڈیا کیمطابق سنڈیکیٹ آف ہیلتھ کے سربراہ طارق ایشمان نے ان اعدادوشمار کی تصدیق کی ہے۔ڈینٹل سنڈیکیٹ کے سربراہ کے مطابق صرف پچھلے سال 2020 کے دوران ایک ہزار سے زیادہ ڈینٹسٹس نے استعفیٰ دینے کے بعد پبلک سیکٹر میں اپنی خدمات ترک کر دی ہیں جس کی وجہ سے اس سال کچھ سرکاری مراکز، کلینکس اور اسپتالوں کو بند کرنا پڑا۔ترک میڈیکل ایسوسی ایشن کے ایک ذریعے نے عرب ٹی وی کوبتایا کہ جن سرکاری مراکز

میں وہ کام کرتے ہیں ان کے ڈاکٹروں کے استعفوں کا سلسلہ اب تک نہیں رکا ہے، لیکن ان اداروں کے ڈائریکٹرز نے ان کے استعفے قبول کرنے میں تاخیر کی ہے۔ڈاکٹروں کے استعفوں کا سلسلہ صرف پبلک سیکٹر میں ہی نہیں، غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ڈاکٹر بھی اپنی کم تنخواہوں کی وجہ سے ملازمت چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔عرب ٹی وی

کو میڈیکل سینڈیکیٹ سے معلوم ہوا ہے کہ رواں ماہ جب ترک لیرا کی قیمت میں کمی آئی تو اس کے نتیجے میں ڈاکٹروں اورطبی عملے پر مزید بوجھ بڑھا ہے۔ترک میڈیا کے حوالے سے سنڈیکیٹ آف ڈینٹسٹ کے بیانات کے مطابق جن ڈاکٹروں نے سرکاری اور نجی اداروں سے اپنے استعفے جمع کرائے ہیں وہ ترکی سے باہر ملازمت کے مواقع حاصل کرنے یا نجی کلینک کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ڈاکٹر سینڈیکیٹ کے ایک اہلکار نے اکتوبر میں انکشاف کیا تھا کہ تین ہزار سے زاید ڈاکٹر بیرون ملک ملازمت کے لیے ترکی چھوڑ چکے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…