ہفتہ‬‮ ، 17 اکتوبر‬‮ 2026 

اپوزیشن کا پارلیمنٹ سے جلد بازی میں منظور کردہ بلز کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

اسلام آباد ( آن لائن ) اپوزیشن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین سمیت پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے 33قوانین کی جلد بازی میں منظوری کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر مشاورت شروع کردی ہے اور یہ معاملہ اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ سٹیئرنگ کمیٹی کو بھجوادیاگیا ہے ۔

اپوزیشن کے ذرائع کاکہنا ہے کہ سٹیئرنگ کمیٹی نہ صرف سپیکر اسد قیصر کیخلاف عدم اعتماد کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرے گی بلکہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ہٹا کر اپوزیشن کا چیئرمین سینٹ بنانے کے لئے بھی فیصلہ کیا جائے گا اپوزیشن کے ایک سینئر رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ جس طرح ایوان کی کارروائی کو سپیکر نے بلڈوز کیا ایسے میں ہمارا ان سے اعتماد ختم ہوگیاہے اسی لئے سپیکر کے ساتھ مستقبل میں بیٹھنے کے حوالے سے ہمارے بہت زیادہ تحفظات ہیں اور ان کو ہٹانے کیلئے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر غور ہورہا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیکر کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تجویز چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دی ہے جس سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی اتفاق کیا ہے لیکن اس کو کامیاب بنانے کیلئے تمام اپوزیشن جماعتوں کی متفقہ رائے کے بعد حتمی فیصلہ سامنے آئیگا کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کے قومی اسمبلی میں اراکین کی تعداد 156ہے اور سپیکر کو ہٹانے کیلئے 172اراکین پورے کرنا لازمی ہے اور اس کیلئے اپوزیشن کو حکومت کے اتحادیوں کا تعاون حاصل کرنا پڑے گا جواس وقت عمران خان کے ساتھ ہیں ۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحادیوں سے بھی درخواست کی دائیگی کہ وہ سپیکر کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ان کا ساتھ دیں اور اپوزیشن رہنما اس بارے میں مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کے

رہنمائوں سے چند دن بعد رابطہ بھی کرینگے ۔ دوسری طرف حکومتی ترجمان اور وزیرمملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ اپوزیشن سپیکر کیخلاف عدماعتماد کی تحریک لانے کا شوق پورا کرے لے انہیں اسی طرح شکست ہوگی جس طرح پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران قانون سازی میں ہوئی تھی ہمارے اراکین پورے ہیں جبکہ اپوزیشن کے اپنے اراکین ان کے ساتھ نہیں ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



 عمران خان بھٹو


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…