جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

”سود کا دفاع کرنے والوں کے ساتھ نہیں چل سکتا “ ترک صدر نے بڑا اعلان کردیا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک ، این این آئی) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ وہ سود کی حمایت اور دفاع کرنے والوں کے ساتھ کسی صورت نہیں چل سکتے۔اپنی پارٹی کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے طیب اردوان نے کہا کہ وہ شرح سود کے خلاف اپنی جنگ کو انجام تک پہنچا کر دم لیں گے، وہ چاہتے ہیں کہ عوام کے اوپر سے سود کا بوجھ ختم کر

دیا جائے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے لوگ سود کے بوجھ تلے دب کر کچلے جائیں۔ وہ سود کا دفاع کرنے والوں کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک دن بعد ہی ترکی کے سنٹرل بینک نے شرح سود کا اعلان کرنا ہے۔ ترک صدر کے اس بیان کے بعد ترک لیرا کی قیمت میں ڈیڑھ فیصد کی کمی آئی ہے اور یہ تاریخ کی نئی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔پارلیمنٹ سے باہر نکلتے ہوئے اردوان نے کہا کہ مرکزی بینک آزادانہ طور پر اپنی پالیسی کا اعلان آج کرے گا۔ انہوں نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک وہ صدر ہیں سود کے خلاف اپنی جنگ کو جاری رکھیں گے۔دوسری جانب ترکی کے ایوان صدر میں سالانہ 187 ملین ترک لیرا (22ملین ڈالر)مالیت کا پینے کا پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس امر کی تصدیق حال ہی میں سامنے آنے والی ایک مانیٹرنگ رپورٹ میں کی گئی جس نے صدر رجب طیب ایردوآن کے پرتعیش طرز زندگی کو ایک بار پھر آشکار کیا ۔مانیٹرنگ رپورٹ کے منظر عام

پر آنے کے بعد سے ترکی کی اپوزیشن جماعتوں نے حکمراں جماعت اور صدر ایردوآن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اپوزیشن کا کہنا تھاکہ طیب ایردوآن تو کسی دور میں صدارتی محل بنانے کے بھی حامی نہیں تھے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کی پرتعیش زندگی کے لیے تین لگژری محل بھی کم سمجھے جا رہے ہیں۔مرکزی اپوزیشن پارٹی کے رکن

پارلیمنٹ علی ماہر بشاریر نے ترکی کی پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی محل میں پینے کے پانی پر اتنا پیسہ بہانے کی بات سن کر دل مجروح ہوتا ہے۔ ایک طرف ترک اساتذہ خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔ان کی جیبوں میں 10 لیرا بھی نہیں ہوتے ہیں۔ فنکار اپنی مشکل زندگی کے نتیجے میں خودکشی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے جب کہ صدارتی محل 187 ملین ترک لیرا صرف پینے کے پانی پر خرچ کرتا ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…