جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

ملاعمرکے خاندان کا نئے طالبان امیرملااخترمنصورکی بیعت سے انکار

datetime 2  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(سپیشل رپورٹ)افغان طالبان کے سابق امیر ملا محمد عمر کے خاندان نے نئے امیر ملا اختر منصور کی بیعت سے انکار کردیا ہے۔ ملا عمر کے چھوٹے بھائی ملا عبدالمنان نے طالبان کے حامی علما اورکمانڈروں کی شوریٰ بلاکرامارت کا مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ افغان طالبان میں پھوٹ پڑ گئی۔افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر کے انتقال اور ان کی جگہ ملا اختر محمد منصور کے امیر بنائے جانے کی خبریں سامنے آئے ابھی چند ہی دن ہوئے ہیں ، لیکن اب صورتحال میں ڈرامائی موڑ آگیا ہے اور ملاعمر کے خاندان نے ملا محمد اختر منصور کو امیر ماننے سے انکار کردیا ہے، ان معاملات کا انکشاف سینئر تجزیہ کار اور افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی نے کیا ، انہوں نے بتایا کہ ملا عمر کے بھائی ملا عبدالمنان نے باضابطہ بیان ریکارڈ کرایا ہے جس میں ملا اختر منصور کی بیعت کرنے سے انکار کیا ہے۔رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق ملا اختر محمد منصور نے ملا عمر کے انتقال کے بعد دو سال اور تین ماہ تک افغان طالبان کی سربراہی کی جبکہ اس سے پہلے بھی جب ملا محمد عمر روپوش تھے، ملا اختر منصور ان سے ہدایات لے کر افغان طالبان کو چلاتے رہے ، اکثر لوگ انہی کو سربراہ ماننے کے حق میں بھی ہیں لیکن اب مخالفت بھی سامنے آچکی ہے۔رحیم اللہ یوسفزئی نے بتایا ہوگیا ہے کہ ملا عمر دنیا میں نہ?ں رہے، اس لیے اب باضابطہ انتخاب ضروری نہیں ہے۔ ملا عمر کا خاندان مطالبہ کررہا ہے افغان طالبان کی شوری کا دوبارہ اجلاس بلایاجائے اور طالبان کےبڑے علما معاملا ت کو حل کرواﺅں گا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…