پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

دنیا کا مہنگا ترین شاہین ساڑھے چار لاکھ ڈالرمیں فروخت

datetime 8  جون‬‮  2021 |

طرابلس(این این آئی)لیبیا میں نیلامی میں ایک نایاب شاہین 2,250,000 لیبیائی دینار میں فروخت ہوا۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی کرنسی میں یہ رقم ساڑھے چار لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ کسی بھی شاہین کی یہ ریکارڈ قیمت ہے اور یہ دنیا کا سب سے مہنگا فیلکن ہے۔ یہ شاہین شکاریوں کے ایک گروپ کو مشرقی شہر طبرق کے جنوب میں شکار کی تلاش کے دوران ملا تھا۔

شاہین کی زیادہ قیمت اس کی نایاب نسل کی وجہ سے بتائی جاتی ہے۔اس پرندے کا تعلق بھی شاہین کی اسی نایاب نسل سے ہے اور اسے مقامی سطح پر ابحریہ باس کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ شاہین لیبیا کے ایک تاجر محمد السعداوی نے طبرق شہر میں منعقدہ نیلامی میں 450 ہزار امریکی ڈالر کے برابر رقم میں خریدا۔ اس نیلامی میں شاہین فروشوں اور کاروباری شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تاجر محمد السعداوی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ شکاریوں کا ایک گروپ جنوبی طبرق میں اس شاہین کو پکڑنے میں کامیاب رہا۔ اسے مقامی طورپر ابحریہ کہا جاتا ہے۔ پکڑی گئی ایک مادہ شاہین ہے۔ شاہین کی قیمت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عرب دنیا میں کسی شاہین پرندے کی یہ سب سے بڑی قیمت ہے۔السعداوی نے اس نایاب شاہین کی خصوصیات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کی چوڑائی 16 اور لمبائی بھی 16 سینٹی میٹر ہے۔ اس کا وزن 1250 گرام ہے۔ سینے کی طرف پرندوں کا رنگ سفید ہے اور یہ بہت نایاب ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…