جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

تمام ٹیکسز ختم کر کے صرف 20 فیصد پرچیز ٹیکس سے112 کھرب اکٹھے کئے جا سکتے ہیں‘پاکستان ٹیکس فورم

datetime 24  اکتوبر‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)پاکستان ٹیکس فورم کے چیئرمین ذوالفقار خان نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم عمران خان عوام کو حقیقی ریلیف اور ملککو غیر ملکی قرضوں کے چنگل سے چھٹکارا دلانا چاہتے ہیںتو فوری طو رپر موجود ہ ٹیکس نظام کوتبدیل کیا جائے،مختلف مدوںمیں40سے زائد ٹیکسز کے باوجود ٹیکس مشینری کے لئے50 کھرب اکھٹے کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے

جبکہ اس ہدف سے 3 گنا زیادہ ٹیکس کرپشن،چوری،منی لانڈرنگ،رشوت اوردیگرچور راستوںکی صورت میں حکومتی خزانے کی بجائے لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔اپنے دفتر میں ملاقات کیلئے آنے والے ٹیکس کنسلٹنس کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے ذوالفقارخان نے کہاکہ پندرہ سال کی ریسرچ پر مبنی رپورٹ شائع کر چکا ہوں لیکن بد قسمتی سے یہاں پر مشاورت اورایسی رپورٹس سے استفادہ کرنے کا قطعی کوئی رواج نہیںہے ۔انہوںنے کہا کہ ٹیکسز کے ہدف 50 کھرب کا 85 فیصد ودہولڈنگ کی صورت میں عام اور غریبوں سے وصول کیا جاتا ہے اوراس کا 10 فیصد بھی عوام کی بھلائی کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔انہوں نے کہاکہ اشرافیہ ٹیکس بچانے لیے ،کالا دھن چھپانے اور اسے ملک سے باہر لے جانے کیلئے اپنی طاقت کااستعمال کرتے ہیں جس کی سزا آج پوری قوم بھگت رہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ریسرچ کی بنیاد پر تجویز ہے کہ اگر آج بھی حکومت ملک سے تمام ٹیکسز کا خاتمہ کر کے صرف 20 فیصد پرچیز ٹیکس عائد کر دے تو 112 کھرب روپے اکٹھے کئے جا سکتے ہیںجبکہ ملک کی ضرورت 80کھرب روپے ہے،اضافی ٹیکسز کے خاتمے سے مہنگائی خودبخود 50 فیصد کم ہو جائے گی،پاکستانی ہی نہیں غیر ملکی سرمایہ کار بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو اولین ترجیح دیں گے اوروزیراعظم پاکستان کا ریاست مدینہ کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو گا۔اس اقدام سے عدالتوں میں زیر التواء ٹیکسز کے لاکھوں کیسز بھی ختم ہو جائیں گے اورکسی کو اپنے اثاثے چھپانے کی ضرورت بھی نہیں ہو گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…