جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سبزہ بحالی کے لیے کھڑکی خطرناک حد تک تنگ ہوچکی ہے،شہزادہ چارلس

datetime 24  اکتوبر‬‮  2021 |

لندن(این این آئی )برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس نے کہا ہے کہ سبزے کی بحالی (گرین ریکوری)کے لیے کھڑکی خطرناک حد تک تنگ ہوچکی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بیان میں شہزادہ چارلس نے کہا کہ گلاسگو میں اکتوبر کے آخرمیں ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس میں قومی سطح پرواضح بیس لائنز کے تعین اورخالص صفراخراج کے اہداف کے حصول میں

رہ نمائی ملے گی۔شہزادہ چارلس نے کہا کہ بالآخر بہت طویل عرصے کے بعد ماحولیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کا نقصان دنیا کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کے حامل واضح عالمی چیلنج ٹھہرے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ کروناوائرس کی جاری وبا نیاس بات کو بھی اجاگرکیا ہے کہ انسانی صحت، کر ارض کی صحت اور معاشی صحت بنیادی طورپرایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔اب ہمارے پاس مواقع کی ایک خطرناک حد تک تنگ کھڑکی ہے جس میں ہمیں پائیدارمستقبل کی بنیاد رکھتے ہوئے سبزے کی بحالی کا عمل تیز کرناہے۔انھوں نے کہاکہ مشرقِ اوسط میں موجودہ آب و ہوا قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں قریبا 1 سے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہے اور مستقبل میں خاص طورپرسال کے گرم ترین اوقات میں اس عالمی حدت میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔شہزادہ چارلس کا کہنا تھا کہ زیادہ درجہ حرارت کے خطے کے لوگوں اورماحولیات پرگہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے یا پہلے ہی ان پر گہرااثرپڑ رہا ہے۔نیزاس بات کا خطرہ ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے پانی اور توانائی کی طلب میں بھی اضافہ ہوگا۔لیکن ہم پہلے ہی اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے حقیقی پیش رفت دیکھ رہے ہیں اورہمیں امید ہے کہ سعودی سبزاقدام اورمشرق اوسط سبز اقدام سے کارب کے اخراج کو صفر تک لانے کے اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت ہوگی۔انھوں نے نشان دہی کی کہ توانائی کے انتقال میں مملکت کی عالمی قیادت انتہائی اہم ہے۔زمینی سطح پرعملی منصوبے سبزمعیشت کی تبدیلی لانے والی صلاحیت کو زندہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ خطے کو ہرسال ریت کے طوفانوں سے 13 ارب ڈالر کا نقصان ہونے کا تخمینہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ علاقے میں اربوں درخت لگانے کے اقدام سے آیندہ نسلوں کے فائدے کے لیے فی الواقع مثبت اثرات مرتب ہوں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…