اسلام آباد(نیوزڈیسک)انتخابی اصلاحات کمیٹی کی مجوزہ آئینی ترامیم کے تحت انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانےو الے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں ہوں گے بلکہ ایسے ارکان پارلیمنٹ بھی نا اہل قرار دیے جا سکیں گے۔ الیکشن کمیشن کے4 ارکان میں سے 2 ہر ڈھائی سال بعد ریٹائرڈ ہوں گے۔ چیف جسٹس سے قائم مقام الیکشن کمشنر کی تقرری کا اختیار واپس لے لیا جائے گا۔ انتخابی اصلاحات کمیٹی کی 13 مجوزہ آئینی ترامیم کی تفصیلات ایک نجی ٹی وی نے حاصل کرلی ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئین کے آرٹیکل 62اور 63میں ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ کے ارکان کی اہلیت اور نااہلی کی شرائط میں تبدیلی جائے گی۔ آرٹیکل63کی ذیلی دفعہ (او) میں مجوزہ آئینی ترمیم کے تحت کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت امیدواروں کو انکم ٹیکس جمع کرانے کا ثبوت پیش کرنا بھی لازمی ہوگا جب کہ انکم ٹیکس جمع نہ کرانے والا رکن پارلیمنٹ نا اہل قرار دیا جا سکے گا۔آئین کے آرٹیکل 217 میں مجوزہ ترمیم کے تحت قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے چیف جسٹس کا اختیار ختم کیا جا رہا ہے، چیف الیکشن کمشنر کی عدم موجودگی، عہدے کی میعاد ختم ہونے یا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں سپریم کورٹ کے جج کی بجائے الیکشن کمیشن کے سینئر ترین رکن کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری کے لیے آرٹیکل 213 اور 218 میں بھی ترامیم تجوزی کی گئی ہیں۔ ان مجوزہ ترامیم کے تحت سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے حاضر سروس یا ریٹائرڈ جج کے علاوہ حاضر سروس یا ریٹائرڈ اعلی ٰافسر اور ٹیکنو کریٹ بھی چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن کا رکن بننے کا اہل ہو گا۔ عام انتخابات کے لیے افسران اور اسٹاف کی تعیناتی کے لیے آرٹیکل 221میں مجوزہ ترمیم کے تحت الیکشن کمیشن کو آر اوزسمیت الیکشن کمیشن سے متعلقہ کسی بھی ماتحت عملے کے خلاف کاروائی کا اختیار ہو گا۔ آئین کے آرٹیکل 215 میں مجوزہ ترمیم کے تحت سینیٹ کی طرح الیکشن کمیشن کے4 ارکان میں سے 2 ہر ڈھائی سال بعد ریٹائرڈ ہوں گے۔ آئین کے آرٹیکل 224 میں مجوزہ ترمیم کے تحت اسمبلی کی مدت ختم ہونےسے 180 دن پہلے خالی ہونے والی نشست پر ضمنی الیکشن ہو سکے گا، اس وقت یہ مدت 120 دن ہے۔ذرائع کے مطابق انتخابی اصلاحات کمیٹی نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت 5 کی بجائے 4 سال کرنے کی تجویزپر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئین کے آرٹیکل 140 اے میں بھی ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کے تحت مقامی حکومتوں کی مدت پوری ہونے پر 120 دن میں نئے انتخابات کرانا لازمی ہو گا۔
عمران خان نے ”دھرنے“ سے کیا فائدہ حاصل کیا؟تفصیلات سامنے آگئیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)
-
پیٹرول سبسڈی لینے والوں کےلیےخوشخبری، وزیراعظم کا اہم اعلان
-
تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
طالبہ لائبہ کا خودکشی سے قبل والد کیلیے ماموں کے موبائل پر بھیجا گیا آخری پیغام سامنے آگیا
-
طالبہ لائبہ سے فراڈ کرنے والے ملزم کی ابتدائی شناخت سامنے آگئی
-
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی گرفتار
-
عمان میں ملازمت کے خواہشمند غیر ملکیوں کیلئے خوشخبری
-
سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے بڑی سہولت متعارف
-
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج ایک ساتھ لگانے کا فیصلہ
-
معروف اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا
-
اسلام آباد سے گولڈ میڈلسٹ طالبہ کی لاش ملنے کا واقعہ: اہل خانہ نے اہم انکشافات کردیے
-
’یہ آنکھیں امیتابھ بچن کو ہی دکھائیے‘، صحافی نے جیا بچن کو کھری کھری سنا دی
-
’ڈئیر پرائم منسٹر امبانی‘ ایلون مسک کے بیان نے بھارتی سیاست میں ہلچل مچا دی



















































