جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

عمران خان کے کالاباغ ڈیم پر بیان کی پرویز خٹک نے تردید کردی

datetime 29  جولائی  2015 |

نوشہرہ (نیوزڈیسک) وزیرا علیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، دیر اور سوات سمیت آٹھ اضلاع میں سیلاب سے بچاﺅ کیلئے آٹھ ارب روپے سے زائد لاگت کے منصوبے زیر تکمیل ہیں جن سے دریائے کابل، جندی، دیر اور سوات کے اردگرد آبادیوں کو سیلاب سے محفوظ بنایا جا سکے گا اُنہوں نے کہاکہ چترال میں سیلاب سے متاثر ہونے والے بند راستے عارضی طور پر بحال کرنے میں دس سے پندرہ روز لگیں گے جبکہ بڑی شاہراہوں سمیت تمام سڑکیں اور پل چھ ماہ کے اندر مکمل طور پر بحال کر دیئے جائیں گے وزیراعلیٰ نے کہاکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کالا باغ ڈیم پر کوئی بیان نہیں دیا اور اس مسئلے پر پی ٹی آئی کا یہ موقف بالکل واضح ہے کہ چاروں صوبوں کے اتفاق رائے کے بغیر کالا باغ ڈیم پر بات نہیں کی جائےگی وہ سی ایم سیکرٹریٹ میں نوشہرہ پریس کلب کے عہدیداروں سے بات چیت کررہے تھے جنہوں نے پریس کلب کے صدر مشتاق احمد پراچہ کی قیادت میں وزیراعلیٰ سے ملاقات کی صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میاں جمشید الدین کا کا خیل اور وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی خلیق الرحمن بھی ملاقات میں موجود تھے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اس موقع پر نوشہرہ پریس کلب کیلئے اعلان کردہ80 لاکھ روپے کی گرانٹ جاری کرنے اور نوشہرہ کی میڈیا کالونی کاکام تیز کرنے کی ہدایت کی جس کیلئے صوبائی حکومت نے ایک کروڑ تین لاکھ 80 ہزار روپے کی منظوری دے رکھی ہے جبکہ پریس کلب کی عمارت کی تعمیر و مرمت کا منصوبہ بھی جلد مکمل کرنے کیلئے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کیںوزیراعلیٰ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چترال میں قبل از وقت گلیشیر پگھلنے سے سیلاب آیاجبکہ ندی نالوں اور پانی کی دیگر گذر گاہ کے اندر تعمیر شدہ گھروں کے باعث لوگوں کا جانی و مالی نقصان ہوا اُنہوں نے بتایا کہ کہ صوبائی حکومت ایک قانون سازی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے جس کے تحت آبی گزر گاہوں کی حد بندی کرکے ان کی واضح اور مستقل نشاندہی کی جائے گی اور ان گزرگاہوں کے اندر یا خطرناک کناروں پر تعمیرات کی ممانعت ہو گی انہوں نے کہاکہ سیلاب لوگوں کے پیچھے نہیں آتا بلکہ پانی کے راستے میں گھر تعمیر کرنے والے لوگ سیلاب کے آگے آجاتے ہیں جس سے نہ صرف لوگوں کی جان و مال کا نقصان ہوتا ہے بلکہ حکومت کو بھی بھاری نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے پرویز خٹک نے بتایا کہ سیلاب سے بچاﺅ کیلئے مستقبل کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے جس کے تحت مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے انہوں نے بتایا کہ فلڈ کمیشن 2013 کی رپورٹ میں سیلاب سے بچاﺅ کے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت کے بارے میں مثبت تاثرات درج ہیں جو سیلاب کے حفاظتی اقدامات میں صوبائی حکومت کی سنجیدگی اور عملی اقدامات کا مظہر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…