اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

”کیا ڈیل ہوگئی؟“تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنیکامعاملہ،رائے شماری ہوئی تو۔۔۔

datetime 29  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف مبینہ انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشیل کمیشن کی رپورٹ پرمایوس اور دل شکستہ ہے۔ اس کا ہر سیاسی حریف جسے دھرنے کے دوران تنقید اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑا اب وہ اس کا حساب چکانا چاہتا ہے۔ انتہائی شدید مخالفین تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کو ایوان سے طویل عرصہ تک بغیر اجازت غیر حاضر رہنے پر انہیں رکنیت سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کارطارق بٹ کی رپورٹ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ جو ایسا چاہتی ہے، اس کی اپنی وجوہ ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان قائم ایک طویل عرصہ سے کشیدگی جو لندن میں الطاف حسین کے خلاف مظاہرے کے بعد مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔ ایم کیو ایم قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے ارکان کو خارج کرنے کے لئے پیش قرارداد میں شریک ہے۔ جمعیت علماءاسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جنہیں دھرنے کے دوران عمران خان کی شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا، انہیں بھی حساب برابر کرنے کا موقع ہاتھ آگیا ہے۔ تاہم حکمراں مسلم لیگ(ن) کسی بحران یا افراتفری سے بچنے کیلئے تحریک انصاف کو قومی اسمبلی سے نکالنے کے حق میں نہیں اور پیش کئے جانے کی صورت میں قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دے گی۔ مسلم لیگ(ن) کی کوشش ہے کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ سے باہر ہی حل ہوجائے تاکہ ممکنہ قرارداد پر رائے شماری کی نوبت ہی نہ آئے۔ اس مقصد کیلئے وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اسپیکر ایاز صادق کو قرارداد موخر کرنے کی تجویز دیں گے۔ اگر حکمراں جماعت تحریک انصاف کو قومی اسمبلی سے باہر دیکھنے کا فیصلہ کرتی ہے تب قرارداد تقریباً متفقہ طور پر منظور ہوسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی بھی جو تحریک انصاف کا ہدف رہی، اس کے باوجود وہ عمران خان کی جماعت کو قومی اسمبلی سے نکال باہر کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ اسحٰق ڈار اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں یہی موقف اختیار کیا۔ تحریک انصاف کی ہر ایک سے الجھنے کی پالیسی نے اسے تنہا کردیا۔ جس کے نتیجے میں اس نے دوست کم اور دشمن زیادہ بنالئے ۔اپنا احتجاج ختم کردینےکے باوجود عمران خان قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت سے گریزاں ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں شاہ محمود قریشی جو ایوان میں تحریک انصاف کی قیادت کررہے ہیں، انہوں نے معاملے سے نمٹنے میں اسپیکر ایاز صادق کی کوششوں کو سراہا۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی مثبت انداز میں آگے کی جانب بڑھنے پر زور دیا۔ جماعت اسلامی بھی تحریک انصاف کی قومی اسمبلی سے اخراج کی مخالفت کرے گی۔ جوڈیشیل کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے عمران خان سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اب انتخابی اصلاحات کیلئے پارلیمانی کمیٹی میں تحریک انصاف کا کردار نمایاں اور اہمیت کا حامل ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…