جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

شہد کی مکھیوں کے طیاروں پربڑھتے ہوئے حملے

datetime 28  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پرندے، برسوں سے ہوابازی کی صنعت کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ پرندوں کے ساتھ ٹکراؤ کے نیتجے میں طیاروں کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کی صورت میں ہوابازی کی عالمی صنعت کو سالانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔بہ ظاہر پرندے اور ہوائی جہاز کا کوئی مقابلہ نہیں۔ مگر جب چھوٹا سا پرندہ محوپرواز طیارے سے ٹکرا کر انجن میں گھس جائے تو اسے شدید نقصان پہنچتا ہے۔ انجن کی مرمت پر کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پرندے اور طیارے کے درمیان تصادم مسافروں کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔پرندوں کے علاوہ اب شہد کی مکھیاں بھی ہوائی اڈوں کی انتظامیہ کے لیے درد سر بنتی جارہی ہیں۔ گذشتہ دنوں ماسکو کے ونوکوف ایئرپورٹ پر ہزاروں کی تعداد میں شہد کی مکھیاں ایک مسافر جہاز پر حملہ آور ہوگئیں۔ یہ جہاز ماسکو سے سینٹ پٹزبرگ جارہا تھا۔ مکھیوں نے جہاز پر اس وقت ہلّہ بولا جب اسے پرواز کے لیے کھینچ کر رن وے پر لے جایا جارہا تھا۔ شہد کی مکھیاں ایئربس 319 کے پروں سے چمٹ گئیں، جب کہ بڑی تعداد نے کھڑکیوں پر بھی ڈیرا جما لیا۔مکھیوں کی یلغار کے بعد انتطامیہ نے فوری طور پر دو ایمبولینس بُلالیں کہ کہیں مکھیاں جہاز کے اندر داخل نہ ہوجائیں۔ ہوائی اڈے کا عملہ ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد مکھیوں کو بھگانے میں کام یاب ہوا۔ اورکوئی ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے جہاز کو اس کی منزل کی جانب روانہ کیا گیا۔یہ پہلا واقعہ نہیں تھا جب شہد کی مکھیاں ہوائی جہاز پر حملہ آور ہوئی ہوں۔ رواں برس اپریل میں امریکی ریاست منیسوٹا کے ہوائی اڈے پر شہد کی مکھیوں نے Allegiant ایئرلائن کے ہوائی جہاز پر یلغار کردی تھی۔ طیارے کی ونڈ اسکرین مکھیوں سے مکمل طور پر ڈھک گئی تھی۔ مکھیاں ہوائی جہاز کے انجنوں میں بھی گھس گئی تھیں۔ انجنوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے ایئرلائن کو یہ پرواز منسوخ کرنی پڑی تھی۔امریکا کے جنوب مغربی علاقے میں طیاروں پر شہد کی مکھیوں کی یلغار کے واقعات تواتر سے پیش آرہے ہیں۔ شہد کی مکھیوں کی یہ قسم افریقا سے تعلق رکھتی ہے۔ جارحانہ فطرت اور حملہ آور ہونے کی عادت کی بہ دولت انھیں killer bees بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا ڈنک بہت زہریلا ہوتا ہے۔ اگر کئی مکھیاں بہ یک وقت انسان کو ڈنک مار دیں تو اس کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق افریقا سے یہ مکھیاں 1990 کی دہائی میں امریکا میں داخل ہوئی تھیں۔ یہ کھلی فضا میں سفر کرتی ہیں۔ سفر کرتے کرتے جب ملکہ مکھی تھک جائے تو پھر یہ آرام کرنے کے لیے اتر آتی ہیں۔ ہوائی اڈے چوں کہ وسیع و عریض اور درختوں سے عاری ہوتے ہیں، لہٰذا سستانے کے لیے ہوائی جہاز، سامان لادنے والی مشینوں، ٹرمینل اور گیراجوںمیں ٹھہر جاتی ہیں۔ تاہم مکھیوں کا یہ عارضی قیام مسافروں اور ہوائی اڈوں کی انتظامیہ کو پریشانی اور کوفت میں مبتلا کردیتا ہے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…