پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

طالبان سے مذاکرات کے لیے برطانوی وزیر خارجہ قطر روانہ

datetime 2  ستمبر‬‮  2021 |

دوحہ واشنگٹن (این این آئی )برطانوی وزیرخارجہ ڈومِنیک راب افغانستان کی صورت حال پر بات چیت کے لیے قطر پہنچ گئے ۔جہاں وہ قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات کریں گے، برطانوی دفتر برائے خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد کابل کے ہوائی اڈے اور دیگر سرحدی گزرگاہوں کو فعال اور کھلا رکھنے کی کوشش ہے، تاکہ غیر ملکی شہریوں کے افغانستان سے

نکلنے کے لیے محفوظ راستے قائم رہیں۔ واضح رہے کہ فی الحال برطانیہ نے افغانستان کے لیے اپنے سفارتی مشن کو دوحہ منتقل کر دیا ہے۔ راب اپنے اس دورے کے دوران متوقع طور پر پاکستان بھی جائیں گے۔امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک مِلی نے کہا ہے کہ افغانستان میں داعش اور دیگر جنگجووں کے خلاف دہشت گردی مخالف کاررائیوں میں امریکا طالبان کے ساتھ مل کر کام کر سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغانستان میں دو عشروں تک طالبان کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مصروف امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک مِلی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر امریکی وزیر دفاع جنرل لائیڈ آسٹن بھی موجود تھے۔جنرل مارک ملِی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مستقبل میں اس بات کا امکان ہے کہ امریکا داعش کے خلاف کارروائیوں میں طالبان کی مدد لے گا۔ایک سوال کے جواب میں جنرل مارک مِلی نے کہاکہ ہم طالبان کے ساتھ بہت محدود امور پر کام کررہے ہیں اور اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جس قدر بھی ممکن ہو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو

افغانستان سے نکالا جا سکے۔ جنرل مِلی نے مزید کہاکہ جنگ میں ضروری نہیں وہی ہو جو آپ چاہتے ہیں۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ مشن اور فورس کولاحق خطرات کو کم سے کم کیا جائے۔جب امریکی فوج کے سربراہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں طالبان کے رویے میں کسی تبدیلی کی امید ہے

تو ان کا کہنا تھاکہ یہ ماضی میں ایک بے رحم گروہ تھا اور آیا اب اس میں کوئی تبدیلی آئے گی، یہ وقت ہی بتائے گا۔جنرل مِلی نے بتایا کہ وہ کابل ہوائی اڈے کے باہر دھماکے میں ہلاک ہونے والے 13 امریکی فوجیوں کے خاندانوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 20 سالہ جنگ کے بارے میں وہ غصہ اور درد محسوس کرتے ہیں اور یہ احساسات ان خاندانوں کی طرح ہیں جو سوگ میں ہیں۔جنرل مِلی نے کہاکہ یہ انتہائی مشکل کام ہے، جنگ مشکل ہوتی ہے۔ یہ انتہائی وحشت ناک، ظالمانہ اور بے رحم ہوتی ہے۔ اور ہاں ہم سب میں غصہ اور درد موجود ہے۔امریکی وزیر دفاع جنرل لائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ طالبان سے مستقبل میں تعاون لینے کے حوالے سے فی الحال وہ کوئی پیشن گوئی نہیں کر سکتے۔انہوں نے تاہم کہا کہ امریکی عہدیدارہر وہ کام کریں گے جس سے ہمیں داعش پر نگاہ رکھنے اور ان کے نیٹ ورک کو سمجھنے میں مدد مل سکے اور انہوں نے جو کچھ کیا ہے اس کے لیے قصوروارٹھہرانے کے حوالے سے مستقبل میں ہم اپنے حساب سے وقت کا انتخاب کرسکیں۔وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ محدود سطح پر رابطہ ہے اور مستقبل کی طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات کا لائحہ عمل آنے والے دنوں میں تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فوجی آپریشن میں بہتری کی گنجائش بہر حال رہتی ہے اور امریکی فوج نے خطرات کا سامنا کرتے ہوئے اپنا مشن پورا کیا۔امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان کی جنگ ختم ہوگئی ہے اور اب سفارتی مشن پر کام ہو رہا ہے۔ امریکی سفارتی مشن کو دوحہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…