جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا،صوبے بھرمیں ہائی الرٹ جاری

datetime 26  جولائی  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)خیبرپختونخواحکومت نے طوفانی بارشوں کے باعث صوبے میں ہائی الرٹ جاری کردیا ہے،بڈھنی پل پر پانی کابہاﺅ زیادہ ہونے کی وجہ سے خطرہ موجو دہے،چترال میں اب تک 25افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوا ہے،348مکانات مکمل طورپر تباہ جبکہ77مکانات کوجزوی نقصان پہنچا ہے۔وزیراطلاعات خیبرپختونخوا مشتاق غنی نے میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے صوبے مےں مزید بارشوں کے پیش نظرہائی الرٹ جاری کردیا ہے ،تمام متعلقہ اداروں کوچوکس رہنے کی ہدایات کی گئی ہیں،انہوںنے کہا کہ چترال میں حالیہ سیلاب سے برے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں ،چترال میں اب تک 32افراد جاں بحق ہوگئے ،ایک شخص زخمی بھی ہوا ۔348مکانات مکمل طورپر تباہ جبکہ77مکانات کوجزوی نقصان پہنچا ہے،مشتاق غنی کاکہنا تھا کہ چترال میںحالیہ سیلاب سے27پل،پچا س دکانیں،چھ مساجد اورچارسکولوں کوبھی نقصان پہنچا ہے،1700کے قریب مال مویشی بھی ہلاک ہوگئے ہیں،محکمہ موسمیات کی جانب سے پشاورمیں مزیدبارشوں کی پیش گوئی کے بعدہائی الرٹ جاری کردیا ہے، انہوںنے کہا کہ بارشوں سے کیوجہ سے صورتحال تشویشناک ہے،سیلاب سے متاثرہ ضلع چترال میں صحت کےلئے چودہ ملین،لوکل گورنمنٹ کو114ملین روپے فراہم کردیئے ہیں، لائیوسٹاک کےلئے 2.6ملین روپے جاری کردیئے، وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ بڈھنی پل پر پانی بہاﺅ زیادہ ہونے کی وجہ سے خطرہ موجو دہے ،سیلاب زیرتعمیر بڈھنی پل کی وجہ سے نہیں آیا،بڈھنی پل کے اردگرد تجاوزات کے نشانات لگادیئے گئے ہیں۔چترال کی دوبارہ بحالی کےلئے اربوں روپے درکار ہیں،وفاقی حکومت فنڈز کی فراہمی میں تعاون کریں،صوبے کی ہیلی کاپٹرخراب ہونے کی وجہ سے وفاقی حکومت ہیلی مہیا کریں تاکہ امدادی سرگرمیوں میں تیز لائے جاسکیں۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…