جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

سیلابی ریلا جنوبی پنجاب سے سندھ میں داخل ہو گیا ،کئی بستیاں ڈوب گئیں

datetime 26  جولائی  2015 |

کشمور (نیوز ڈیسک)دریائے سندھ کا سیلابی ریلا جنوبی پنجاب میں تباہی پھیلاتی ہوئی سندھ کی طرف گامزن ہے۔ متاثرہ علاقوں اپنے گھروں سے نقل مکانی کرکے ریلیف کیمپوں میں آنے والے متاثرین کس مپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دریائے سندھ کی بے رحم موجیں جنوبی پنجاب میں تباہی کی داستان رقم کرتے ہوئے سندھ کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ڈیرہ غازی خان میں سیلابی ریلوں نے جکھڑامام شاہ فلڈ بند میں ایک اور سو فٹ چوڑا شگاف ڈال دیا جبکہ چار روز قبل پڑنے والا شگاف ساڑھے تین سو فٹ چوڑا ہوگیا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر کوٹ چٹھہ خالد سندو نے بتایا کہ جکھڑامام شاہ کے علاقے سے 8 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچادیا گیا،شگاف پڑنے سے سیلابی ریلا دریائے سندھ کے مغربی علاقوں کی آبادی میں داخل ہوگیا۔رحیم یار خان کی بستی حامد پورمیں زمینداراں بند بھی ٹوٹ گیا۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ بند ٹوٹنے کے بعد سو سیز ائد مکانات اور کھڑی فصلیں زیر آب آچکی ہیں۔لیہ میں بھی کوٹ سلطان کے قریب پْل ٹوٹنے سے بکھری احمد خان جانے والی ٹریفک معطل ہوگئی ہے۔لیہ میں درمیانیدرجے کا سیلاب ہے۔شاہ والا سپربند کے مقام پرخیمہ بستی قائم کردی گئی ہے جہاں متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مظفر گڑھ میں سیلابی ریلے سے سرکی،سیت پور اور کندائی کے مقامات پر 20سے25 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔سیلابی ریلوں کی سندھ میں آمد کے باعث گدو بیراج پر اونچے درجے کا اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔گدو بیراج پر پانی کی آمد 5لاکھ 13ہزار 600کیوسک اور اخراج 4لاکھ 96ہزار130کیوسک ہے۔گدو بیراج پر اونچے درجے کی سیلابی صورتحال کے بعد کشمور سے گھوٹکی تک متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ڈیرہ اسماعیل خان کیپہاڑوں پر دو روز سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ کوٹ تگہ میں پہاڑی نالوں کا پانی داخل ہوگیا جس سیدرجنوں گھر زیر آب آگئے اور علاقے کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہوچکا ہے جس کے بعد کوٹ تگہ میں ریسکیو ٹیم پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…