جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

چین جدید قسم کے ایٹمی ہتھیار حاصل کر سکتا ہے، چین اور روس نے امریکہ کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

datetime 9  جولائی  2021 |

جنیوا(این این آئی)جنیوا میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو سے متعلق امریکی سفیر رابرٹ ووڈنے کہاہے کہ چین بہت ہی جلد زیر آب ڈرون اور جوہری توانائی سے چلنے والے میزائلوں جیسے پر اسرار ایٹمی ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو پر مہارت رکھنے والے ایک امریکی سفیر نے کہا کہ چین کی ایٹمی ہتھیاروں کے جدید پروگرام پر نظر ہے

جس سے موجودہ، عالمی اسٹریٹیجک استحکام درہم برہم ہو سکتا ہے۔جنیوا میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو سے متعلق امریکی سفیر رابرٹ وڈ کا کہنا تھا کہ زیر آب ڈرون اور جوہری توانائی سے مار کرنے والے میزائل جیسے پراسرار جوہری ہتھیاربہت ہی جلد چینی فوج کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سیٹیلائیٹ سے حاصل تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ چین شمال مغربی شہر یومین کے پاس ایک صحرا میں میزائلوں کو محفوظ طریقے سے رکھنے کے لیے 119 سیلوس (زیر زمین گودام یا گڈھے)تعمیر کر رہا ہے۔ ان کا مزید تھا کہ یہ زیر زمین گودام بالکل اسی نوعیت کے ہیں جس میں اس نے موجودہ ایٹمی ہتھیار محفوظ کر رکھے ہیں اور یہ کافی تشویش ناک بات ہے۔رابرٹ ووڈ کا کہنا تھاکہ چین اس مقام پر سو برس قبل نہیں تھا، اور وہ جوہری توانائی سے چلنے والے ویسے ہی ایٹمی پروگرام کو حاصل کرنے کی کوشش میں ہے جس پر روس کام کرتا رہا ہے۔روس امریکی بیلیسٹک ہتھیاروں سے دفاع کے لیے نئے دفاعی طریقوں پر غور کر رہا ہے اور رابرٹ وڈ کو شبہ ہے کہ چین بھی اب اسی راستے پر گامزن ہے۔رابرٹ وڈ کی دلیل یہ ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے روس اور امریکا کے درمیان تو پہلے سے ایک فریم ورک موجود ہے جبکہ چین کے ساتھ اس طرح کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ روس اور امریکا کے پاس تقریبا گیارہ ہزار جوہری ہتھیار ہیں،

جو دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔رابرٹ وڈ کا کہنا تھاکہ جب تک چین اس معاملے پر امریکا کے ساتھ دو طرفہ میٹنگ نہیں کرتا اس وقت اسلحوں کی تباہ کن دوڑ کا خطرہ بڑھتا ہی رہے گا اور اس سے کسی کو بھی فائدہ نہیں ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ گرچہ چین اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ وہ دفاعی صلاحیت سے لیس ایک ذمہ دار جوہری طاقت ہے۔ لیکن ہم جب چین کو وہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں جو وہ کر رہا ہے تو یہ اس کے قول سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھاکہ یہ سب کے مفاد میں ہے کہ جوہری طاقتیں ایک دوسرے سے جوہری خطرات کو کم کرنے اور بد انتظامی سے بچنے کے بارے میں براہ راست بات کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…