جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں تحریک انصاف کے حق میں کیا باتیں ہیں؟ جانیئے اس رپورٹ میں

datetime 23  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں اگرچہ انتخابات کو منظم، شفاف اور قانون کے مطابق قرار دے دیا ہے لیکن تفصیلی رپورٹ میں الیکشن کمیشن کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے۔ انکوائری کمیشن کی تجویز ہے کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے تک کراچی میں الیکشن فوج کی نگرانی میں ہونے چاہیں۔ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے نظام میں بہت سی خامیاں تھیں۔ الیکشن کمیشن اور انتخابی عملے میں رابطے کا فقدان تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے ملک میں الیکشن ہو رہا تھا لیکن الیکشن کمیشن کے پاس نگرانی کے لیے کوئی مانیٹرنگ سسٹم ہی موجود نہ تھا۔ پنجاب کے حوالے سے کمیشن نے بتایا کہ اضافی بیلٹ پیپرز بہت سے حلقوں کے لئے چھاپے گئے۔ یہ بھی درست ہے کہ بہت سے حلقوں کے بیلٹ پیپرز کا حساب رکھنے والے فارم پندرہ بھی غائب رہے۔ انتخابی عملہ بھی تربیت یافتہ نہیں تھا۔ پولنگ عملے کا تاخیر سے پہنچنے کا معاملہ بھی کُھل کر سامنے آیا۔ سب الیکشن کمیشن کی نااہلی کے باعث ہوا۔ انکوائری کمیشن نے کراچی میں بھی متحدہ کی جانب سے دھونس و دھاندلی کی کا ذکر کرتے ہوئے تجویز دی کہ جب تک کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہو جاتی اس وقت کراچی میں الیکشن فوج کی نگرانی میں ہی ہونے چاہیں۔ انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ میں نادرا رپورٹس کا ذکر کیا کہ انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق نہ ہو سکنے کے باعث بھاری تعداد میں ووٹوں کی شناخت نہ ہو سکی۔ ایک الزام تھا کہ پنجاب کی بیورو کریسی نجم سیٹھی کی بجائے رائے ونڈ اور (ن) لیگ کو رپورٹ کرتی تھی۔ اس الزام پر کمیشن نے جواب دیا کہ بیورو کریسی کا یہ رویہ ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ ہے –



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…