منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

نوازشریف کاچترال کو چین اور تاجکستان کےساتھ لنک کرنے کااعلان

datetime 22  جولائی  2015 |

چترال (نیوزڈیسک) وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ لواری ٹنل پراجیکٹ 31دسمبر 2016ءکو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائےگاجس کےلئے اس سال چار ارب روپے اور اگلے سال سات ارب روپے مہیا کئے جائینگے جبکہ اس پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد چترال ائر پورٹ کو بین الاقوامی حیثیت دی جائےگی ،چترال کو چین اور تاجکستان کےساتھ لنک کرنے سے چترال میں معاشی انقلاب برپا ہوگا۔ بدھ کو چترال شہر اور کوراغ کے مقامات پر متاثرین سیلاب اور سیاسی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہاکہ لواری ٹنل پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد چترال ائر پورٹ کو بین الاقوامی حیثیت دینے اور بائی روڈ لنک کرنے سے چترال معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن جائےگا جس کے نتیجے میں ترقی کا اندازہ ہر کوئی کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چکدرہ ٹو چترال موٹر وے کی تعمیر اس سلسلے کی کڑی ہے جس کےلئے انہوںنے 27ارب روپے کا اعلان کیا ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ چترال تا گلگت روڈ کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حوالے کیا جائیگا، سیلاب متاثرین کو سی۔130طیاروں کے ذریعے فوڈ پیکیج مہیا کئے جائینگے اور سیلاب سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کےلئے صوبائی حکومت کی ہر ممکن مدد کی جائیگی ۔ انہوںنے سیلاب سے تباہ شدہ انفراسٹرکچروں کی بحالی کےلئے ایک ارب روپے کی گرانٹ اور سیلاب سے متاثرہ کسانوں کے زرعی قرضے معاف کرنے کا بھی اعلان کیا تاکہ ان کی دوبارہ آبادکاری آسان ہوسکے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے چترال ٹاﺅن میں بجلی کی شدید بحران کے حل کےلئے چیئر مین واپڈ ا کو ہدایت جاری کردی جس پر تین ہفتوں کے اندر عملدرامد شروع ہوگا۔ وزیراعظم نے فوڈ پراسیسنگ کےلئے جدید پلانٹ لگانے کا بھی اعلان کیا تاکہ یہاں زائد میوہ جات سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔وزیراعظم نے گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان عباسی اور وفاقی وزراءپرویز رشید اور مشاہد اللہ خان کے ہمراہ چترال میں گرم چشمہ ، تورکھو، کوراغ، کوشٹ، شوغور اور سیلاب سے متاثرہ دوسرے مقامات کا فضائی جائزہ بھی لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…