منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

بارشوں نے گلگت بلتستان میں تباہی مچادی،سڑکیں،رابطہ پل بہہ گئے

datetime 22  جولائی  2015 |

سکردو (نیوزڈیسک)بارشوں اور سیلاب نے گلگت بلتستان کے پانچ اضلاع میں تباہی مچا دی ، سیکڑوں گھر نہ رہے ، بےرحم موجیں سڑکیں اور رابطہ پل بھی بہا کر لے گئیں ، پاک فوج کے جوان متاثرین کی امداد کے لیے ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔بارشوں نے گلگت بلتستان کے پانچ اضلاع میں تباہی مچا دی ، سیکڑوں گھر نہ رہے ، مکئی اور چارے کی فصلیں برباد ہوگئیں۔ خوبانی ، چیری اور بادام کے باغات اجڑ گئے ، طوفانی لہریں درجنوں رابطہ پل بہا کر لے گئیں ،سڑکیں ٹوٹیں تو کئی علاقے ایک دوسرے سے جدا ہوگئے۔ سیلابی ریلے نے گانچھے میں سب کچھ ملیامیٹ کر دیا۔ گانچھے میں باپ بیٹا بھی بےرحم موجوں کا شکار ہو گئے۔سکردو میں ایک سو دس گھر ، سولہ مساجد ، سات سکول اور نو پن بجلی گھر بھی تباہ ہوگئے۔دس رابطہ پل بہہ جانے کے بعد پچھتر دیہات کا زمینی رابطہ کٹ گیا ہے ،دو سو ایکڑ رقبے پر خوبانی اور سیب کے باغات بھی تباہ ہوگئے۔ وادی شگر کے گاو¿ں وزیرپور میں گلیشیئر سے بنی جھیل ٹوٹنے سے پانی آبادی میں داخل ہوگیا۔ گلگت سکردو روڈ بھی سیلابی ریلے کی زد میں آگئی۔ چترال میں دروش ، گرم چشمہ ، کوراغ ، بونی اور مستوج میں گرے ہوئے گھر عمارتیں ، تباہی اور بربادی کی داستان سنا رہی ہیں ، دیامر ، ہنزہ نگر میں بھی سڑکیں شدید متاثر ہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ہدایت پر پاک فوج کے جوان متاثرین کی امداد کے لیے بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں۔کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمان بھی امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کوراگ اور ربنی سے 60 افراد کو ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا گیا۔ ریسکیو کیے جانے والے افراد میں سیاح ، بیمار ، بزرگ اور بچے شامل ہیں گذشتہ روز بھی تہتر افراد کو ریسکیو کیا گیا تھا ، چترال کے سیلاب متاثرین میں سولہ ٹن راشن بھی تقسیم کیا گیا جبکہ ایف سی نے چترال کے سیلاب متاثرین کیلئے 100ٹن راشن عطیہ کیا ہے جبکہ چترال میں ہیلی کاپٹر مسلسل پرواز کر رہے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…