جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

بارشوں نے گلگت بلتستان میں تباہی مچادی،سڑکیں،رابطہ پل بہہ گئے

datetime 22  جولائی  2015 |

سکردو (نیوزڈیسک)بارشوں اور سیلاب نے گلگت بلتستان کے پانچ اضلاع میں تباہی مچا دی ، سیکڑوں گھر نہ رہے ، بےرحم موجیں سڑکیں اور رابطہ پل بھی بہا کر لے گئیں ، پاک فوج کے جوان متاثرین کی امداد کے لیے ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔بارشوں نے گلگت بلتستان کے پانچ اضلاع میں تباہی مچا دی ، سیکڑوں گھر نہ رہے ، مکئی اور چارے کی فصلیں برباد ہوگئیں۔ خوبانی ، چیری اور بادام کے باغات اجڑ گئے ، طوفانی لہریں درجنوں رابطہ پل بہا کر لے گئیں ،سڑکیں ٹوٹیں تو کئی علاقے ایک دوسرے سے جدا ہوگئے۔ سیلابی ریلے نے گانچھے میں سب کچھ ملیامیٹ کر دیا۔ گانچھے میں باپ بیٹا بھی بےرحم موجوں کا شکار ہو گئے۔سکردو میں ایک سو دس گھر ، سولہ مساجد ، سات سکول اور نو پن بجلی گھر بھی تباہ ہوگئے۔دس رابطہ پل بہہ جانے کے بعد پچھتر دیہات کا زمینی رابطہ کٹ گیا ہے ،دو سو ایکڑ رقبے پر خوبانی اور سیب کے باغات بھی تباہ ہوگئے۔ وادی شگر کے گاو¿ں وزیرپور میں گلیشیئر سے بنی جھیل ٹوٹنے سے پانی آبادی میں داخل ہوگیا۔ گلگت سکردو روڈ بھی سیلابی ریلے کی زد میں آگئی۔ چترال میں دروش ، گرم چشمہ ، کوراغ ، بونی اور مستوج میں گرے ہوئے گھر عمارتیں ، تباہی اور بربادی کی داستان سنا رہی ہیں ، دیامر ، ہنزہ نگر میں بھی سڑکیں شدید متاثر ہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ہدایت پر پاک فوج کے جوان متاثرین کی امداد کے لیے بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں۔کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمان بھی امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کوراگ اور ربنی سے 60 افراد کو ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا گیا۔ ریسکیو کیے جانے والے افراد میں سیاح ، بیمار ، بزرگ اور بچے شامل ہیں گذشتہ روز بھی تہتر افراد کو ریسکیو کیا گیا تھا ، چترال کے سیلاب متاثرین میں سولہ ٹن راشن بھی تقسیم کیا گیا جبکہ ایف سی نے چترال کے سیلاب متاثرین کیلئے 100ٹن راشن عطیہ کیا ہے جبکہ چترال میں ہیلی کاپٹر مسلسل پرواز کر رہے ہیں



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…