منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

میٹرک اور انٹر کے ناکام طلبا کو اضافی نمبرزدینے کا فیصلہ

datetime 16  جون‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی) محکمہ تعلیم سندھ کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس سال نویں اور فرسٹ ائیر کے امتحانات جولائی اور اگست میںمنعقد کئے جائیں گے جبکہ اس سال پریکٹیکل امتحانات بھی لئے جائیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ امتحانات اختیاری مضامین کے ہی ہوں گے جبکہ جو بھی بچہ ان مضامین میں فیل ہوگا اس کو پاسنگ مارکس دئیے جائیں گے

کلاس پہلی سے آٹھویں تک کے امتحانات لئے جائیں گے اور یہ امتحانات اسکولز اپنے طور پر لیں گے۔اس سال صوبہ سندھ میں موسم گرما کی تعطیلات نہیں ہوں گی تاہم اگر درجہ حرارت زیادہ ہوا تو صورتحال کو دیکھ کر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی کی زیر صدارت بدھ کے روز سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری تعلیم احمد بخش ناریجو، سیکرٹری کالجز سید خالد حیدر شاہ، سیکرٹری یونیورسٹیز قاضی شاہد پرویز، ارکان سندھ اسمبلی تنزیلہ ام حبیبہ، رابعہ اظفر نظامی، ڈی جی پرائیویٹ اسکول منصوب صدیقی، ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم ڈاکٹر فوزیہ، تمام بورڈز کے چیئرمینز، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز کے عہدیداران سمیت دیگر موجود ہیں۔اجلاس میں گذشتہ اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی جبکہ اجلاس میں کلاس نہم اور گیارہویں کے امتحانات کی تاریخ پر تبادلہ خیال کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ جولائی کے ماہ میں دسویں جماعت کے امتحانات کے فوری بعد نویں کے امتحانات جبکہ گیارہویں جماعت کے امتحانات بارہویں جماعت کے فوری بعد اگست میں لئے جائیں گے۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ صرف اختیاری مضامین کے امتحانات ہوں گے اور اس سال میٹرک اور انٹر میں پریکٹیکل کے امتحانات تھیوری امتحانات کے بعد لئے جائیں گے، پریکٹیکل امتحانات اپنے اپنے اسکولز اور کالجز میں ہی ہوں گے۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ امتحانات کے 45 روز کے بعد پہلے مرحلے میں کلاس دسویں اور بارہویں کے نتائج کا اعلان کیا جائے گا جبکہ نویں اور گیارہویں کے نتائج ان دونوں کلاسز کے بعد کئے جائیں گے۔اجلاس میں اس بات بھی اتفاق کیا گیا کہ اس سال صورتحال کے پیش نظر اورنویں اور گیارہویں کے گذشتہ سال امتحانات نہ لئے جانے کے باعث اس سال میٹرک اور انٹر میں اختیاری مضامین میں اگر کوئی طالبعلم فیل ہوتا ہے تو اس کو پاسنگ مارکس دئیے جائیں گے اور ان کے لازمی مضامین کے مارکس اسی بنیاد پر دئیے جائیں گے۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا کہ پہلی سے آٹھویں تک کے امتحانات کے حوالے سے تین تجاویز آئی ہیں، جس میں ایک تجویز کلاس پہلی سے چوتھی اور چھٹی اور ساتویں کو پرموٹ کرنے، دوسری تجویز تمام کلاسز کو پرموٹ کرنے اور تیسری تجویز تمام کلاسز کے امتحانات لینے کی ہے۔ اجلاس میں اسٹیئرنگ کمیٹی کے تمام ارکان سے تفصیلی بحث کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس سال پہلی سے آٹھویں تک کے امتحانات لئے جائیںگے اور یہ امتحانات اسکولز اپنے طور پر لیں گے، اس موقع پر سعید غنی نے کہا کہ اس سال کرونا وائرس کے باعث صورتحال کے پیش نظر ہمیں کچھ ایسے فیصلے کرنے پڑے ہیں جو اچھے نہیں ہیں لیکن مجبوری کے تحت یہ فیصلے کئے گئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ پری پرائمری اور پرائمری کلاسز میں تدریسی عمل کا آغاز انشاء اللہ21 جون سے ہوجائے گا تاہم اگر صورتحال جو اس وقت تک مکمل کنٹرول میں ہے اگر خدانخواستہ صورتحال خراب ہوتی ہے تو ہم مجبور ہوں گے کہ تعلیمی ادارے بند کردیں۔ اس موقع پر موسم گرما کی تعطیلات کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ اس سال موسم گرما کی تعطیلات سندھ میں نہیں ہوں گی تاہم اگر موسم بہت زیادہ گرم ہوا تو حالات کو مدنظر رکھ کر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…