منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

امریکہ، پاکستان مابین فوجی اڈوںپر مذاکرات تعطل کا شکار معاہدہ ممکن ہے ،امریکی عہدیداروں کا دعویٰ

datetime 9  جون‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکا نے خطے میں فوجی بیس کے لیے پاکستان پر توجہ مرکوز کر رکھی ہوئی ہے حالانکہ چند امریکی عہدیداروں کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات فی الوقت تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے نے اس سے قبل بھی شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملے شروع کرنے کے لیے

پاکستان میں ایک بیس کا استعمال کیا تھا، تاہم ‘2011 میں انہیں اس سہولت سے نکال دیا گیا تھاجب پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات خراب ہوئے تھے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ چند امریکی عہدیداروں نے اخبار کو بتایا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات ابھی تعطل کا شکار ہوچکے ہیں، دیگر نے کہا کہ یہ آپشن اب بھی ٹیبل پر ہے اور معاہدہ ممکن ہے۔سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم جے برنز نے حال ہی میں پاکستانی فوج کے سربراہ اور انٹر سروسز انٹلی جنس کے ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ سے ملاقات کے لیے اسلام آباد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا تھا۔امریکی وزیر دفاع لائیڈ جے آسٹن کی بھی پاکستانی فوج کے سربراہ سے افغانستان میں مستقبل میں امریکی آپریشنز کے لیے ان کی مدد حاصل کرنے کے بارے میں متعدد بار ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔اس رپورٹ میں کہا گیا ولیم جے برنز نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران بیس کا مسئلہ نہیں اٹھایا کیونکہ اس دورے میں انسداد دہشت گردی کے وسیع تعاون پر توجہ دی گئی تھی، تاہم ‘امریکی وزیر دفاع کے کچھ

مباحثے زیادہ براہ راست رہے ہیں۔امریکا کو اڈہ دینے میں پاکستان کی ہچکچاہٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ اسلام آباد حکومت کی جانب سے پاکستان کی کسی بھی بیس کو طالبان کے خلاف امریکی حملوں کے لیے استعمال کرنے کے لیے دستخط کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کے باوجود چند امریکی عہدیداروں

کا خیال ہے کہ اگر پاکستان کسی بیس تک امریکی رسائی کی اجازت دینا چاہتا ہے تو وہ اس پر کنٹرول رکھے گا کہ اس کا استعمال کیسے ہوگا۔اس رپورٹ میں گزشتہ ماہ پارلیمنٹ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی تقریر کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کے اقتدار میں رہنے تک کوئی امریکی بیس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ سی آئی اے نے بلوچستان میں شمسی ایئربیس کا استعمال 2008 میں سیکڑوں ڈرون حملے کرنے کے لیے کیا تھا، ان حملوں کا مرکز بنیادی طور پر صرف پاکستان کے پہاڑی قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے مشتبہ کارکن تھے لیکن انہوں نے افغانستان میں سرحد عبور بھی کی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی حکومت نے عوامی

طور پر یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ سی آئی اے کو آپریشنز کی اجازت دے رہی ہے اور وہ ایک نئے تعلقات کے ساتھ محتاط انداز میں آگے بڑھنا چاہے گی۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ امریکی عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے پاکستانیوں نے ملک میں بیس کے استعمال کے بدلے میں متعدد پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ سی آئی اے یا فوج کے افغانستان میں کسی بھی اہداف پر حملے ان کی اجازت سے ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…