منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

آرٹسٹ نے نظر نہ آنے والا مجسمہ لاکھوں میں فروخت کر دیا، لوگ حیران

datetime 6  جون‬‮  2021 |

روم (این این آئی )ایک آرٹسٹ نے ‘نادیدہ مجسمہ’ لاکھوں روپے میں فروخت کر دیا، لوگ اس دکھائی نہ دینے والے مجسمے کی فروخت پر حیران رہ گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اٹلی کے مشہور آرٹسٹ سالواتورے گارؤ نے ایک ایسا مجسمہ 18 ہزار ڈالرز (13 لاکھ روپے سے زائد) میں فروخت کیا ہے جو کسی کو دکھائی نہیں دیتا، دل چسپ بات یہ ہے کہ خریدار کو اس کی سندِ اعتبار بھی فراہم کی گئی ہے،

جو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یہ حقیقی ہے۔لوگ ایک غیر مرئی مجسمہ اتنا مہنگا خریدے جانے پر سر کھجا کر ہی رہ گئے، اگرچہ یہ رقم آرٹ کی دنیا میں بہت کم ہے تاہم یہی رقم بہت زیادہ لگنے لگتی ہے جب اسے ایک غیر مادی مجسمے کے لیے خرچ کیا گیا ہویعنی کسی نے ہزاروں ڈالر ایک ایسے نظر نہ آنے والے فن پارے کے لیے پھینک دیے ہیں، جو سچ میں کسی بھی چیز سے نہیں بنا، اس فن پارے کو اطالوی میں Io Sono یعنی ‘میں ہوں’ کا عنوان دیا گیا ہے، اور اسے ایک نامعلوم شخص نے خریدا۔آرٹ رائٹ نامی آکشن ہاؤس نے اس غیر مرئی مجسمے کی نیلامی مئی میں شروع کی تھی، بولی کا آغاز 7 ہزار ڈالر سے ہوا، آخر کار ایک شخص نے اسے 18300 ڈالر میں خرید لیا، جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔آرٹسٹ سالواتورے گارؤ نے اس مجسمے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں مجسمے کو ایک خلا کے طور پر سوچنا مرغوب ہے۔ واضح رہے کہ خلا (ویکیوم) توانائی سے بھری ہوئی ایک جگہ ہوتی ہے، جرمن طبیعیات دان وارنر ہائزنبرگ کے’غیر یقینی صورت حال’ کے اصول کے مطابق اگر اس خلا کو خالی بھی کیا جائے تو وہاں کچھ نہیں بچتا، لیکن اس کچھ نہیں کا بھی ایک وزن ہوتا ہے، لہٰذا اس خلا میں توانائی ہے جو کثیف اور ذرات میں تبدیل شدہ ہوتی ہے، اور یہ ہم میں ہوتی ہے۔اٹلی کے مشہور آرٹسٹ سالواتورے گارؤلوگوں کی طرف سے تنقید کے بعد گارؤ نے اپنے دفاع میں کہا کہ کیا ہم نے خدا کو صورت گری نہیں کی ہے، حالاں کہ ہم نے اسے بھی کبھی نہیں دیکھا۔امریکی اخبار کے مطابق یہ گارؤ کا پہلا نادیدہ مجسمہ نہیں ہے، بلکہ فروری میں انھوں نے ‘بدھا مراقبے میں’ کے عنوان والا نادیدہ مجسمہ بھی شہر میلان میں ایک عوامی جگہ پر رکھ کر اس کی نمائش کرائی تھی۔رواں ہفتے انھوں نے ایک اور مجسمہ افروڈائٹ کے نام سے نیویارک اسٹاک ایکسچینج کے سامنے رکھ کر اس کی نمائش کرائی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…